تل ابیب (آن لائن) ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی پر زمینی حملے کی تیاری کر رہی ہے، اس کی دوسری نظر دوسرے محاذ پر ہے جو جنوبی لبنان سے کھل سکتا ہے، جب کہ ایک تیسرا محاذ بھی اسرائیل کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام نے بتایا کہ انہوں نے رضاکاروں کی سینکڑوں سکیورٹی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پچھلے دو ہفتے کے دوران ہزاروں یہودیوں میں اسلحہ تقسیم کیا گیا ہے تاکہ عربوں کی طرف سے ممکنہ حملوں سے بچنے کے لیے یہودیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔لبنان کے ساتھ سرحد اور مغربی کنارے میں موجودہ جنگ اور دشمنی میں اضافے نے اسرائیل کے اندر پہلے سے کشیدہ نسلی تعلقات کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیلی پولیس نے سوشل میڈیا پر پوسٹس کی بنیاد پر درجنوں عرب شہریوں کو گرفتار کر لیا۔گرفتار ہونے والوں کے کچھ وکلا نے ان اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا اور ان کا مقصد جنگ کی مخالفت کو خاموش کرانا قرار دیا جاتا ہے۔اپنی طرف سے کمشنر جنرل آف پولیس کوبی شبتائی نے کہا کہ سوشل میڈیا کی نگرانی سے افسران کو کسی بھی تشدد کے پھیلنے پر پیشگی تیاری اور جواب دینے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے ایک کنیسٹ ریویو کمیٹی کو بتایا کہ یہاں کا رویہ مثالی ہے۔ تقریبا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، ان تمام نازک واقعات کو مقامی سطح پر اور میڈیا کے کم اثر کے ساتھ نمٹا گیا۔
Load/Hide Comments



