ہم 28 مئی والے ہیں، 9 مئی والے نہیں،نواز شریف

دبئی (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم 28 مئی والے ہیں 9 مئی والے نہیں۔وطن واپسی سے قبل دبئی ایئرپورٹ پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج 4 سال بعد پاکستان جا رہا ہوں، اپنے ملک واپسی کی خوشی ہے، اللہ کے فضل سے میں سرخرو ہوکرجا رہا ہوں لیکن میرے خلاف مقدمات سے ملک کو نقصان ہوا، ملک معاشی معاشرتی اور ہر لحاظ سے پیچھے گیا جس کا افسوس ہے، ملک میں اضطراب کی صورتحال ہے، ملکی معاشی حالات تشویشناک ہیں مگر مجھے اچھی امید ہے۔نوازشریف نے کہا کہ ہم 28 مئی والے ہیں 9 مئی والے نہیں، ہم نے حالات خود بگاڑے ہیں اور خود ہی ٹھیک کریں گے کیوں کہ ہمیں تجربہ ہے اس لیے ہم اپنے ملک کو دوبارہ مستحکم کرسکتے ہیں، ہمارے دور میں رویپہ مستحکم تھا، لوگوں کو روزگار مل رہا تھا، بجلی سستی مل رہی تھی، غریب کو علاج کی سہولت اور مفت ادویات میسر تھیں، ہمیں آج دنیا کی بلند ترین قوموں میں ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری ہوچکی اور حلقہ بندیاں ہونی ہیں، اب الیکشن کب کرانے ہیں یہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن مجاز ادارہ ہے اب انتخابات جنوری میں ہوں یا نہ ہوں، اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کر سکتا ہے لیکن ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں، میری ترجیح وہی ہے جو الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا،سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اور میری بیٹی نے ڈیڑھ، ڈیڑھ سو پیشیاں بھگتی ہیں، ناصرف ہم نے بلکہ ہماری پارٹی کے لوگوں نے بھی پیشیاں بھگتیں، میں نے سب کچھ اللہ پر چھوڑا ہوا ہے، آج 2017ء کے مقابلے میں ملک کے حالات بہتر نہیں، پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے چلا گیا ہے، لوگوں کے حالات بہت پریشان کن ہیں، بہت اچھا ہوتا 2017ء کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے لیکن اب بھی امید کی کرن ہے، جس کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔