اسلام آبا د(آن لائن)پاکستان کے بار بار احتجاج اور ٹھوس شواہد کے باوجود افغان عبوری حکومت کالعدم تحریک طالبان کو پاکستان کے خلاف کاروائیوں اور دہشت گردی سے روکنے میں بری طرح ناکام ہے،جس کی وجہ سے افغانستان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی جنت بن گیا ہے،اور دہشت گرد پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں آزادانہ گھوم رہے ہیں جس کی وڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی آماجگاہیں افغانستان کے علاقے کنڑ، نورستان، پکتیکا، خوست و دیگر علاقوں میں ہیں،ٹی ٹی پی میں شامل افغان دہشتگرد شمس، مہادل، وکیل اور فتح افغانی افغانستان کے علاقے نورستان میں موجود ہیں اور وقتاً فوقتاً پاک افغان سرحدسے متصل پاکستانی علاقوں دہشتگردانہ کارروائیوں میں شامل ہیں۔دہشتگرد منصور بٹانی افغان صوبے پکتیکا میں دہشت گردوں کی تنظیم نو، تربیت اور پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل ہیں،ویڈیو شواہد میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دہشتگرد نور ولی محسود ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاک افغان سرحد پر قائم پاکستانی چوکیوں پر حملے سے پہلے ہدایات دے رہا ہے،ٹی ٹی پی کا سرغنہ ہدایت اللہ افغان علاقے کنڑ میں موجود ہے اور پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کو سرانجام دینے کیلئے منصوبہ بندی سے لیکر حملے کرنے تک کے عمل کا ذمہ دار ہے،افغان علاقے کنڑ میں دہشت گرد کفایت اللہ عام شہریوں کی طرح سرعام آزادانہ زندگی گزار رہا ہے جبکہ پاکستان میں یہی شخص ایک سفاک قاتل اور دہشتگرد کا روپ دھار لیتا ہے،کیا افغان حکومت میں شامل ذمہ داران،ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی افغانستان میں موجودگی کے شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے جھٹلا سکتے ہیں؟
Load/Hide Comments



