کراچی (آن لائن) جماعت اسلامی کے تحت شاہراہ فیصل ہونے والا عظیم الشان اور تاریخی ”فلسطین مارچ“کراچی کا تاریخی مارچ اور اتحاد امت کا بھرپور مظہر ثابت ہوا،مارچ کے لاکھوں شرکاء جن میں مرد وخواتین، بچے، بزرگ، نوجوان سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شامل تھے نے امریکی و یہودی سازشوں و کوششوں کے خلاف اور فلسطینی مسلمانوں و حماس کے مجاہدین کی جدو جہداورتحریک مزاحمت کو سلام پیش کیا اور ان سے بھرپور اظہار ِ یکجہتیکیا۔فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر،رہبر و رہنماء مصطفیؐ مصطفیٰ،خاتم النبیاؑ مصطفیٰ ؐ مصطفیٰ ؐ، لبیک لبیک الھم لبیک،لبیک یا غزہ،لبیک یا اقصیٰ کے نعروں سے گونجتی رہی اور شرکاء میں زبردست جوش وخروش دیکھنے میں آیا۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاکہ اقوام متحدہ میں سکریٹری جنرل اور یو این او کو جگانے کے لیے ایک کروڑ پٹیشن پاکستان کی عوام کی طرف بھیجیں گے اور مطالبہ کریں کہ اسرائیلی دہشت گردوں کو لگام ڈالی جائے اور اگر اسرائیلی دہشت گردوں کو لگام نہیں ڈالی گئی تو دنیا میں تیسری جنگ عظیم ہوگی۔امریکہ صدر نے کہاکہ ہم اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔ ہم امریکہ صدر سے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر تم نے اسرائیل کا ساتھ دیا تو ہم اسلام آباد میں سفارتخانے کے گھیراؤ کے لیے طوفان اقصیٰ کا اعلان کریں گے اور فلسطین کے مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔سراج الحق نے فلسطین مارچ میں اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کیا اور شرکاء سے سوال کیا کہ کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں تو لاکھوں افراد نے فلک نعرے لگاتے ہوئے اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔سراج الحق نے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی نے بوسنیا میں قتل عام شروع ہوا تو سب سے پہلے قاضی حسین اور جماعت اسلامی کے لوگ ان کی مدد کے لیے پہنچے اسی طرح افغانستان میں قتل عام شروع ہوا تو جماعت اسلامی کے لوگوں نے آواز بلند کی آج فلسطین کے مظلوم و نہتے مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے تو سب سے پہلے جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضار مدد کے لیے پہنچ گئے ہیں۔آج کے عظیم الشان فلسطین مارچ کے ذریعے عالم اسلام کے حکمران سے مطالبہ کرتا ہوں کہ غزہ کو لاشوں اورملبے کا ڈھیر بننے کا انتظار نہ کریں اور فوری طور پر غزہ کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ہم خیر مقدم کرتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب نے فلسطین کے حوالے سے آپس میں رابطے شروع کیے ہیں۔ اگر حکمرانوں نے غیر جانبداری اور خاموشی اختیار کی تو ہم سمجھیں کہ انہوں نے اسرائل اور امریکہ ساتھ دیا۔ وزیر اعظم سن لیں کہ ابھی چائنہ نہیں بلکہ بیت المقدس اورمسجد اقصیٰ بچانے کے لیے فلسطین جانے کا وقت ہے۔ آرمی چیف صاحب سے کہتا ہوں کہ اس وقت صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی بن جائیں دو ارب مسلمان آپ کی پشت میں ہوں گے۔ امت کو اس وقت صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی اور محمد بن قاسم کی ضرورت ہے۔کچھ لوگ معیشت کو بہتر کرنے کے لیے بات کررہے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ میں تمام لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے پوری دنیا میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کی۔آج پاکستان کے لوگوں نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارا جینا اور مرنا فلسطین کے لیے ہے۔ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں کہ امت کی بیداری اور جذبہ طوفان کے آگے نہ اسرائیل اور نہ ان کا سرپرست امریکہ ٹھہر سکے گا۔امریکہ اور اسرائیل کی شکست یقینی ہے۔فلسطین کی مائیں اپنے بچوں کو شہادت کا درس دیتی ہیں۔اگر ساری دنیا بھی ایک ہوجائے تو ایسی قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتی۔16سال سے غزہ کا محاصرہ ہے، ہر روز بمباری کی جارہی ہے، ہزاروں بزرگ، مائیں، بیٹیاں اور نواجوان شہید ہورہے ہیں۔بد قسمتی سے امت مسلمہ کے حکمران بیدار نہیں ہوتے، صرف مذمتی بیان جاری کر کے ایک اور سانحے کا انتظار کرتے ہیں۔مسلمانوں کا خون ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھا ہوا ہے۔حقیقیت یہ ہے کہ یہ مجاہدین ہماری عزت اور ہمارا علم ہے۔اقوام متحدہ میں ایک ہزار بار فلسطین کے حق میں قراردادیں منظورکی گئیں ہیں۔اگر ان قراردادوں پر عمل نہ کیا جائے تو پھر حماس کے مجاہدین مزاحمت کا راستہ اختیار کریں گے.
Load/Hide Comments



