کوئٹہ(آن لائن) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے نگران وزیرِ اعلی بلوچستان سردار علی مردان خان ڈومکی نے ملاقات کی۔منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیاو نگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں نگران وزیر اعلی نے نگران وزیراعظم کو بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کے لیے منعقد ہونے والے اپیکس کمیٹی کے 14ویں اجلاس کے متعلق بریفنگ دی۔ نگران وزیر اعلی نینگران وزیراعظم کو صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ملاقات میں نگران وزیر داخلہ میر سرفراز احمد بگٹی بھی موجود تھے۔قبل ازیں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے انکشاف کیا تھاکہ مقامی حکام کی ملی بھگت سے اسمگل شدہ ایرانی تیل کی 27 ہزار گاڑیاں روزانہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو رہی تھیں۔ ان گاڑیوں کے داخلے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی گاڑی رشوت دی جا رہی تھی۔ ڈپٹی کمشنر اسمگلنگ میں کردار ادا کرنے والوں کو بھی شیئرز دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کی سرحد پار سے غیر قانونی نقل و حرکت تقریبا بند ہو چکی ہے، اگرچہ ابھی تک مکمل طور پر یہ اسمگلنگ نہیں رکی۔ انہوں نے کہا کہ عسکری اور سول قیادت نے اسمگلنگ کے خلاف فیصلہ کن مہم شروع کی۔ گزشتہ تین سال میں یہ ایسی دوسری مہم ہے لیکن اس بار کریک ڈاون شدید تھا۔ یہ میرا فیصلہ تھا کہ ایرانی تیل کی پاکستان اسمگلنگ کو روکا جائے جس پر پاک فوج نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کیا۔
Load/Hide Comments



