عوامی نیشنل پارٹی جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی مہربانیوں کی محتاج نہیں، ایمل ولی خان

پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی مہربانیوں کی محتاج نہیں۔ اے این پی کل بھی میدان میں تھی، آج بھی ہے اور کل بھی کھڑی رہے گی۔ دس سال اقتدار پر مسلط رہنے والے اب بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔دس سال قوم کے حقوق غصب کرنے والوں کو حساب کتاب دینا ہوگا۔ خدوخیل بونیر میں پی کے 27 کے زیراہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر حماس کا حملہ مسلمانوں اور فلسطین کیلئے مزید مسائل اورپیچیدگیوں کا باعث بنے گا۔ نائین الیون کے بعد بھی ہم نے خوشیاں منائی تھیں لیکن نتائج سب نے دیکھ لئے۔ عرب ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے توقع رکھتے ہیں کہ فلسطین کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ افغانوں پر دہشتگردی کا الزام لگا کر ملک سے بیدخل کرنا مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ افغان تو دنیا کے ہر ملک میں آباد ہیں، وہاں دہشتگردی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر صرف یہاں بدامنی ہے تو ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے ریاست اپنے گریبان میں جھانکے۔ ریاست دہشتگردی ختم کرنے میں سنجیدہ ہے تو دہشتگرد لانے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ بونیر اور سوات سے لیکر وزیرستان تک دہشتگردوں کو کس نے آباد کیا ہے۔ خار دار تار لگانے کے بعد بھی افغانستان پر الزام لگانے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ اگر خاردار تار کے بعد بھی دہشتگرد وہاں سے آتے ہیں تو یہ کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ جنرل باجوہ، فیض، عمران، عارف علوی، محمود خان اور بیرسٹر سیف کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جب تک ان کرداروں کے خلاف ایکشن نہیں لیا جاتا ریاستی سنجیدگی پر سوال اٹھتا رہے گا۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بارود کاروربار اور خودکش حملے ڈالرز کمانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ امن ہماری ضرورت ہے اور اس بارے اے این پی کا مقف بالکل واضح ہے۔سروں کے بدلے بھی اپنے مقف اور بیانئے سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ووٹ کی طاقت کے علاوہ کوئی اور طاقت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔پاکستان میں ووٹ اور عوام کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کو طاقت کا محور سمجھا جاتا ہے۔ یہاں وہی لوگ قابل قبول ہوتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے اختیار کو مقدم سمجھتے ہیں۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں جنگ حب الوطنی کی نہیں وسائل پر اختیار کی ہے۔ پاکستان کی خاطر ولی خان نے 1973 میں دس سالہ کنکرنٹ لسٹ کو تسلیم کیا۔ بعد میں آمروں کی بدولت اس کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوا۔ اے این پی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شکل میں کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ یقینی بنایا۔آئینی ترمیم کی بدولت ہم نے صوبائی خودمختاری اور آئینی حقوق حاصل کئے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے خیبر پختونخوا میں ترقی کا سفر کا شروع ہوا۔ اس ترقی کا راستہ روکنے کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کو دو دفعہ پارلیمان سے باہر رکھا گیا۔ ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جنکو پختونوں کے وسائل اور اختیار کی کوئی پروا نہیں۔ پچھلے دس سالوں میں پختونخوا کو ہر طرح کے آئینی حقوق سیمحروم رکھا گیا۔ پختونوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے مردم شماری میں دھاندلی کی گئی۔ ہماری کوئی ذاتی لالچ اور مفاد نہیں، صرف قوم کے وسائل پر قوم کا اختیار چاہتے ہیں۔ وسائل پر اختیار سے محرومی کے باعث پختون باہر دنیا میں مزدوریوں پر مجبور ہیں۔ کنونشن سے صوبائی جنرل سیکرٹری وامیدوار پی کے 27 سردار حسین بابک، رف خان، استقبال خان، قیصر ولی خان اور افسر خان نے بھی خطاب کیا.