مستونگ دھماکے میں بھارتی خفیہ ایجنسی”را“ ملوث ہے، سرفراز بگٹی

اسلام آباد(آ ن لائن) نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مستونگ دھماکے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے۔افغان ٹریڈ کی آڑ میں تجارت کم اسمگلنگ زیادہ ہو رہی تھی جس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا تھا، آرمی چیف نے واضح کہا ہے کہ اسمگلنگ میں فوج کے لوگ ملوث ہوئے تو ان کا کورٹ مارشل ہو گا،نواز شریف کی وطن واپسی حوصلہ افزاء بات ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ مشکل ہے نا ممکن نہیں،ڈالر کی اصل قیمت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔پیر کو اسلام آباد میں نگران وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں افغان ٹریڈ کے نام پر تجارت کم اور اسمگلنگ زیادہ ہو رہی تھی، اس کو بہتر کیا جارہا ہے، اسی طرح چینی کی اسمگلنگ ہو رہی تھی، اس کو کس طرح جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کلب کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوڈ سیکیورٹیز ڈیپارٹمنٹ ہے، ان کے ساتھ ہم نے تمام صوبوں کا ایک ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، کہ ہمارے صوبوں کے فوڈ کے حوالے سے کیا ضروریات ہیں، اس کے حوالے سے بھی صوبائی بارڈرز کو بھی ہم نے کمپیوٹرائزڈ کر دیا ہے، اسی طرح انسداد اسمگلنگ کے لیے مشترکہ چیک پوسٹس بنائی ہیں، وہ بنیادی پر بلوچستان میں ہیں، اس کے بعد خیبرپختونخوا اور دیگر جگہوں پر بھی قائم کی جارہی ہیں۔سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ان چیک پوسٹس میں فرنٹیئر کور، صوبائی پولیس، کسٹمز سمیت حکومتی ادارے ہیں، سب پر مشترکہ چیک پوسٹس پر ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ جائز کام کر رہے ہیں، ان کی ہم نے حوصلہ افزائی کرنی ہے، اور آپ کے توسط سے یہ اعتماد دینا ہے کہ پاکستان میں جو قانونی کام کررہے ہیں ان کے لیے مواقع مزید بڑھیں گے، جو لوگ غیر قانونی کام کررہے ہیں، اسمگلنگ، حوالہ ہنڈی میں ملوث ہیں، ریاست ان کے ساتھ بہت سخت طریقے سے پیش آئے گی، اور ان کے لیے کوئی اسپیس نہیں چھوڑی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مہینے کے دوران ہم نے گندم کی اسمگلنگ روکی ہے اور ذخیرہ اندوزی کے لیے جو چھاپے مارے ہیں، تقریباً ہم نے 2 ہزار 200 ٹن گندم برآمد کی گئی ہے، اسی طرح 8 ہزار ٹن چینی برآمد کی گئی ہے، اس کے علاوہ یوریا 4 ہزار 3 سو میٹرک ٹن برآمد کی گئی ہے۔سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ وفاقی دارالحکومت کے پیٹرول پمپس تک پہنچ چکی تھی، وہ بغیر چیکنگ کے کس طرح سے آرہی تھی، اس پر بڑی حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ 10 ہزار 195 لیٹر پی او ایل کی مقدار پکڑی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اوگرا کے ساتھ مل کر میکنزم بنایا ہے کہ جتنے بھی پیٹرول پمپس ہوں گے، وہاں پر باقاعدگی کے ساتھ چھاپے مارے جائیں گے، ان کو چیک کیا جائے گا، جو پیٹرول پمپ اس طرح کی پریکٹس میں پکڑا گیا، غیر معیاری تیل بیچنے کی کوشش کی، تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر داخلہ نے اس بات بات کا انکشاف کیا کہ غیر قانونی دھندے میں کئی سرکاری افسران اور سیاستدان بھی ملوث ہیں جن کے خلاف تحقیقات کر کے قانونی کارروائی کی جائیگی۔ اسمگلنگ میں سیکیورٹی ایجنسی کے ملوچ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ اگر میں یہ کہہ دوں کہ (سیکیورٹی ایجنسیز) ملوث ہی نہیں ہیں، تو یہ مناسب نہیں ہے کیونکہ جتنی بھی اسمگلنگ ہوئی ہے، یہ کوئی اونٹوں پر نہیں ہوئی، اسمگلنگ ٹرکوں پر ہو رہی تھی، انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے واضح کہا ہے کہ اسمگلنگ میں فوج کے لوگ ملوث ہوئے تو ان کا کورٹ مارشل ہو گابلکہ جو لوگ اس طرح کی پریکٹسز میں ملوث ہیں، ان کو جیل بھی بھیجا جائے گا۔فوج میں احتساب کا نظام موجود ہے ہم نے 9مئی کو بھی فوج کا احتساب دیکھا۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈالر کی بڑی اسمگلنگ ہو رہی تھی، آپ نے دیکھا ہے کہ کچھ اقدامات کرنے سے اللہ کے فضل و کرم سے ڈالر بہت حد تک نیچے آیا، کوشش ہو گی کہ ڈالر کی اصل قیمت تک پہنچیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کا انخلا ہو رہا تھا، اس کے خلاف بہت بڑی کارروائی شروع کی گئی ہے، آپ کو پتا ہے کہ سی کیٹیگری کی ایکسچینج کمپنیز کو بند کر دیا گیا ہے، اور اے اور بی کیٹیگری کی کمپنیز پر بھی نظر رکھی جارہی ہے، جو بھی ڈالر کی اسمگلنگ میں ملوث ہوں گے، ان کے خلاف بھی سختی سے پیش آیا جائے گا۔نگران وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہم اب تک 168 ایف آئی آرز درج کر چکے ہیں، ہم انہیں عدالت میں پیش کریں گے، اسی طرح 65 کروڑ 80 لاکھ روپے کی برآمدگی بھی ہو چکی ہے، اس کے علاوہ انسداد منشیات کے خلاف بھی مہم جاری ہے۔مستونگ دھماکے سے متعلق نگران وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ مستونگ دھماکے میں ہمارے دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی راہ ملوث ہے تاہم دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں، ماضی میں بلوچستان میں جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے اس میں راہ ملوث تھی،دشمن سن لے ہم پسپا ہونے والے نہیں ہم دہشتگردوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے،ہم بیک فٹ پر جانے والے نہیں ہیں انسداددہشتگردی کے حوالے سے ہم زیر و ٹالرینس پالیس پر عمل پیر ا ہیں۔ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے ملک میں ایک بھی دہشتگرد نہ ہو۔ دہشگردی کے خلاف جنگ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ اگر میاں صاحب وطن واپس آکر ملکی سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے، میاں صاحب تو وہ لیڈر ہے جو بیٹی کا ہاتھ پکڑ کو جیل گئے تھے،میں نے کوئی ایسی با ت نہیں کی جس سے کسی کی دل آزاری ہو، نواز شریف اس وقت بھی وطن واپس آئے جب ان کا بدترین مخالف وزیراعظم تھا۔ رانا ثناء اللہ کا حق ہے وہ جو بھی کہے میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا، پاکستان میں ہر چیز آئین و قانون کے مطابق چلے گی.