بلوچستان کے سلگتے مسائل کاحل دیانت دارقیادت،بدعنوانی کے خاتمے اور بلوچستان کے وسائل بلوچستان پر خرچ کرنے میں ہے، سراج الحق

کوئٹہ(آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاکہ بلوچستان کے سلگتے مسائل کاحل دیانت دارقیادت،بدعنوانی کے خاتمے اور بلوچستان کے وسائل بلوچستان پر خرچ کرنے میں ہے۔سی پیک،سیندک،ریکوڈک سمیت دیگر معدنیات ووسائل سے مالامال ہونے کے باوجودیہاں غربت ناچتی،عوام خودکشی خودسوزی پر مجبور ہے حکومت بجلی،گیس بلوں،ادویات،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیکر غریبوں پر چھاپے مارنے کے بجائے بڑے کرپٹ ارب پتی پر چھاپے مارکر لوٹی ہوئی دولت برآمد اور ان کے کرپشن کے جائیدادنیلا م کردیں لاپتہ افراد،ساحل،بارڈر،تجارت وروزگار کے مسائل فوری حل کرنے ہوں گے۔ایران سمیت ہمسائیہ ممالک سے قانونی تجارت کے بجائے سمگلنگ کی راہ کیوں اپنائی گئی ہے۔اگر حکمرانوں نے بجلی،گیس بلوں ادویات،پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی توجماعت اسلامی دھرنوں کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے کوئٹہ میں ٹی چینلز کو انٹرویودیتے، وفودسے ملاقات وذمہ داران سے گفتگومیں کیاانہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور مہنگائی کی مجموعی صورت حال کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کر رکھا ہے۔ لاہور، پشاور اور کوئٹہ ے گورنر ہاؤسز کے سامنے دھرنے کے بعد کراچی گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا ہو گا۔ حکومت عوام کو ریلیف دے، بجلی، پٹرول، اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم کی جائیں، نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں کہ بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کرے۔ جماعت اسلامی عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی، قوم کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ہمارا اگلا لائحہ عمل اسلام آباد مارچ ہو گا۔ ہم آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے عوامی حقوق کے حصول کے لیے ہر راستہ اختیار کریں گے۔1994ء میں پیپلزپارٹی نے آئی پی پیز معاہدے کر کے قوم پر ظلم کیا، ن لیگ کے ادوار میں مزید معاہدے ہوئے، پی ٹی آئی نے انھیں جاری رکھا، تاحال 88کمپنیوں کو 8ہزار ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں،کمپنیوں کو اضافی بجلی پیدا کرنے پر بھی قوم کا خون نچوڑ کر رقم ادا کی جاتی ہے، دنیا میں ایسے معاہدے کہیں نہیں ہوئے، اس طرح کا ظلم تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی غلام ہندوستانیوں پر نہیں کیا تھا، غریبوں کو چاروں اطراف سے لوٹا جا رہا ہے، فراڈ معاہدے ختم کیے جائیں، ذمہ داران قومی مجرم ہیں، ان کا احتساب چاہتے ہیں۔ بجلی کے بلوں میں 48فیصد ٹیکسز شامل ہیں، انھیں ختم کر کے صارفین سے اصل قیمت وصول کی جائے۔ طاقتور کمپنیوں اور ان سے معاہدوں کے ذمہ داران کو کسی نے نہیں پوچھا۔ چیف جسٹس کے پاس موقع ہے کہ وہ عوام کو انصاف دلائیں۔ جماعت اسلامی بھی آئی پی پیز معاہدوں کوسپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے آئی پی پیز معاہدوں پر ایکشن لینے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ عوام کو ظلم و ناانصافی سے نجات دلا دیں تو ان کا احسان ہو گا، قوم کی ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ قومی انتخابات کی واضح اور ایک تاریخ دی جائے تاکہ قوم کا ابہام دور ہو۔ الیکشن کمیشن 90دن میں انتخابات کروانے میں ناکام ہو گیا، یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم اب جب الیکشن کمیشن نے جنوری میں الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، تو ہم چاہتے ہیں کہ تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا امتحان ہے۔ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر سیاسی ہوجائیں اور وہی کام کریں جن کی آئین میں انھیں اجازت ہے۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی میں عوام کو ریلیف نہیں تکلیف پہنچانے کا مقابلہ رہا، تینوں نے مہنگائی مسلط کی، عوام پر ظلم کیا، دوحکومتوں کے گزشتہ پانچ برس انتہائی تکلیف دہ، قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ نگران حکومت نے بھی آتے ہی قیمتوں میں ایک بار نہیں کئی بار اضافہ کیا، لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں، ٹینشن،ڈپریشن کا شکار ہیں۔ حکومت اربوں کی چوری، مفت خوری تسلیم کرتی ہے تو اسے روکے، عوام پر بوجھ کیوں ڈالا جاتا ہے.