اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں ٹیکس سے متعلق کیس میں ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجودجواب داخل نہ کرانے پر درخواست گزار کودس ہزار روپے جرمانہ کردیاہے۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اربوں روپے کے ٹیکس مقدمات ہم نے دبا کر رکھے ہوئے ہیں،ٹیکس مقدمات میں آپکی یہ حالت ہے کہ ڈیڑھ سال میں جواب تک جمع نہ کرایا جا سکا،یہ ریمارکس پیر کے روزدیے ہیں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی اور اس دوران چیف جسٹس نے درخواست گزار سے پوچھاکہ گزشتہ سال مارچ میں آپکو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی،کیوں نہ آپ کو جرمانہ عائد کیا جائے،عدالت نے وکیل درخواست گزار کو دس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیااورکہاکہ جرمانے کی رقم اپنی مرضی کے خیراتی ادارے میں جمع کروا کر رسید جمع کرائی جائے، وکیل نے کہاکہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اربوں روپے کے ٹیکس مقدمات ہم نے دبا کر رکھے ہوئے ہیں،ٹیکس مقدمات میں آپکی یہ حالت ہے کہ ڈیڑھ سال میں جواب تک جمع نہ کرایا جا سکا، ہمارے بارے میں کہا جاتا ہے ٹیکس مقدمات عدالتوں میں پھنس جاتے ہیں، عدالت نے وکیل درخواست گزار کو تحریری جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دے دی۔کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔
Load/Hide Comments



