نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی کا پانچواں اجلاس،اعلامیہ بھی جاری

وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء کے علاوہ عسکری قیادت اور دیگر حکام کی شرکت، نگران وفاقی وزراء نے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، شرکا کو ملک میں مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے سدباب کیلیے اقدامات سے آگاہ کیا
کمیٹی، ایکنک سمیت کابینہ کی تمام ذیلی کمیٹیوں کو ادارہ جاتی شکل دی جا چکی ہے اور ملک میں میکرو اکنامک مینجمنٹ کے فروغ اور اس سلسلے میں روڈمیپ تیار کرنے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔اس موقع پر وزیر کامرس گوہر اعجاز نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ 2022 میں پاکستان کی 78ارب ڈالر کی ریکارڈ درآمدت ہوئی تھیں اور 32ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات بھی ہوئی تھی جس سے ہماری تجارت کا مجموعی تخمینہ 110ارب ڈالر بنتا تھا، اس 78 ارب کے مقابلے میں ہمیں برآمدات اور ترسیلات زر کی مد میں 55 سے 56 ارب ڈالر ملے تو پچھلے سال حکومت پالیسی اپناتے ہوئے امپورٹس کو کنٹرول کیا اور درآمدات کو کم کر کے 55 ارب ڈالر تک لے آئی۔ان کا کہنا تھا کہ درآمدات میں کمی سے خام مال اور ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس ساڑھے تین ارب ڈالر کی کمی کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کمی آئی اور اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 30ارب ڈالر کی مارکیٹ سکڑی، ہمارا موقف تھا کہ ہمیں منڈیوں کو کھولنے کی ضرورت ہے کیونکہ صنعت بند ہونے سے چیزیں مہنگی ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری ا?ج توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ کس طرح سے کام کے قابل بنایا جائے تاکہ ملک میں جاری مہنگائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے جس کی بڑی وجہ سپلائی چین میں کمی تھی، جب درآمدات بڑھیں گی تو ایکسپورٹس کی صنعت کو اس کو پورا کرنے ہو گا اور اب ہمیں اپنی برآمدات 5ارب ڈالر سے بڑھانی ہیں تاکہ ہمارے ہاں نوکریاں پیدا ہوں۔وزیر کامرس نے کہا کہ ہمیں صنعتوں کو ترجیح دینا ہو گی کیونکہ صنعت چلے گی تو ملک کا پہیہ چلے گا اور ملک کا کاروبار بڑھے گا، مہنگائی کا بحران بھی درآمدات بڑھانے سے کم ہو سکتا ہے، 300 کا ڈالر بھی 250 کا ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ اسمگلنگ سے ملک کو بہت نقصان ہوا ہے لہٰذا اسے کنٹرول کرنا ہے اور ملک کے نظام کے تحت اسمگلنگ کی ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جائے.