کراچی(آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی مالیاتی کمیشن کی تشکیل، لاڑکانہ جنرل یونیورسٹی کے قیام، 500,000 میٹرک ٹن گندم کی درآمد اور انٹرا۔ ڈسٹرکٹ پیپلزبس سروس کے کرایوں کو اگلے 6 ماہ تک برقرار رکھنے کے فیصلے سمیت مختلف اہم ایجنڈوں پر غور کیا گیا۔اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی اور دیگر نے شرکت کی۔ کابینہ 69 ایجنڈوں پر مشتمل تھا،جن میں سے 58 پر غورو خوض کرکے ان کیمتعلق فیصلہ کیا گیا اور بقایا ایجنڈے آنے والے ہفتہ میں زیر غور لائے جائیں گے۔سندھ کابینہ نے صوبائی مالیاتی کمیشن کوصوبائی حکومت کو وسائل کی تقسیم کے فارمولے کی سفارش کی منظوری دی۔ پی ایف سی صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ کی آمدنی سے حکومت اور کونسلز کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے بھی سفارشات پیش کرے گا جسے پروونشل فنانس کمیشن ایوارڈ کہا جاتا ہے۔پی ایف سی کے چیئرمین وزیر اعلیٰ سندھ و وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ کوچیئرمین وزیر بلدیات ناصر شاہ، دو اراکین صوبائی اسمبلی، میئر کے ایم سی، میئر سکھر، میئر ضلع کونسل ٹنڈو محمد خان سید قاسم نوید، چیئرمین میونسپل کمیٹی عمرکوٹ قاسم سراج سومرو، چیئرمین کورنگی ٹاؤن نعیم شیخ ہوں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ پی ایف سی باڈی کو مطلع کریں اور اپنی مدت ختم ہونے سے قبل پی ایف سی ایوارڈ کا اعلان کریں گے۔انٹرا،ڈسٹرکٹ پیپلز بس سروس کے لیے سبسڈی، وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے کابینہ کو بتایا کہ پیپلز بس سروس پروجیکٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لاگت میں فوری تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ 2021 کے طے شدہ نرخوں وقیمتوں کی وجہ سے بہت بڑامالی نقصان برداشت کر رہے ہیں اور کرایوں میں ابھی تک نظر ثانی نہیں کی گئی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ متعدد عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیاتی گرانٹ کو مزید مدت کے لیے بڑھانا دانشمندی ہوگی کیونکہ کم کرایہ، ڈالر میں اضافہ، آپریٹنگ لاگت میں اضافہ، سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے بسوں کو پہنچنے والے نقصانات، دیگر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل وغیرہ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ کمپنی کی درخواست کو انڈیپنڈنٹ ایکسپرٹس تھرڈ پارٹی کو درخواست کے تعین، تشخیص اور توثیق کے لیے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انڈپینڈنٹ ماہرین نے پراجیکٹ کے مالیاتی تجزیے کا جائزہ لیا ہے اور اسے آگے بڑھا دیا ہے اور کمپنی کی جانب سے جاری سبسڈی پروگرام کو مزید آگے بڑھانے کی درخواست کی توثیق کی ہے۔ پروجیکٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور بڑے پیمانے پر عوام کی سہولت کے لیے مزید چھ ماہ کے لیے 40 روپے فی مسافر کرایہ مختص کیا جائے۔ کابینہ نے 657.8 ملین روپے کی سبسڈی کی منظوری دینے کا فیصلہ کیا اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ اگلے چھ ماہ تک کرایوں کو برقرار رکھنے کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
Load/Hide Comments



