آئی ایم ایف کا پروگرام ہمارے لیے چیلنج ہے، وزیراعظم

لاہور(آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، عالمی مالیاتی فنڈز کے ساتھ معاہدے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے۔اگلے الیکشن میں نواز شریف کو موقع دیا تو وعدہ کرتا ہوں ہم پاکستان کا نقشہ بدل دیں گے،اپنی ذات سے بڑھ کر قربانی دینے سے قومیں بنتی ہیں،اتوار کے روز وزیر اعظم نے لاہور میں وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت کامیاب نوجوانوں میں چیکس تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈز کے ساتھ معاہدے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے، اب روپیہ اور ڈالر آسمان اور زمین پر نہیں جا رہے، اس میں اب استحکام آرہا ہے، اسی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کا ریلیف عوام کو دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ یہ پروگرام نہ ہوا ہوتا تو روپیہ کہاں اور ڈالر کا ریٹ کہاں ہوتا اور ہماری معاشی صورتحال طلاطم کا شکار ہوتی۔وزیر اعظم نے کہا کہ جن لوگوں نے شیطانی چرخہ چلایا، جو ملک کے خلاف سازش میں ملوث تھے، ان کی سازشیں، ان کے سمندر پار تانے بانے ناکام ہوئے، چند روز قبل اسرائیل کا پاکستان کے خلاف بیان آیا۔شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ہمارے لیے حلوہ یا لڈو پیڑے نہیں ہے، یہ بہت چیلجنگ پروگرام ہے، اگر ہم نے معاشی اصلاحات کیں، انقلابی اقدامات اٹھا کر، جرات مندانہ فیصلے کرکے آگے بڑھے تو پاکستان کی معاشی ترقی آپ کے قدم چومے گی، اس کی ذمے داری مجھ سمیت ملک کی اشرافیہ کے اوپر ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم باصلاحیت نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان شرائط پر کم سود والے قرض کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے، خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے اس اسکیم میں ان کا خصوصی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا یہ مثبت پہلو ہے کہ ہمارے روپے میں استحکام آرہا ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھنے سے پیٹرول سستا کیا، کل رات وزیرخزانہ نے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا، اللہتعالیٰ نے تمام سازشوں کو نیست و نابود کردیا، یہ پروگرام نہ ہوتا تو معاشی صورتحال مسائل کا شکار ہوتی،جو لوگ ملک کے خلاف سازش میں ملوث تھے اللہ نے ان کی سازشیں دفن کردیں، چند دن قبل اسرائیل کا پاکستان کے خلاف بیان آیا تھا، اسرائیل کے بیان کے تانے بانوں کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔انھوں نے کہا کہ نوازشریف کی قیادت میں 2008 سے یہ پروگرام شروع ہوا، اس پروگرام کا محور عوام ہیں، پنجاب کے طول و ارض میں میرٹ پر 50 ہزارگاڑیاں دی گئیں، نوازشریف کے دورمیں بینکوں کو 99 فیصد قرضے واپس کیے گئے، نوازشریف نے نوجوانوں کو کلاشنکوف یا کوکین نہیں بلکہ کاروبار کے لیے قرضے دیئے تھے،انھوں نے کہا کہ نوازشریف نے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم کی، نواز شریف کو اقتدار سے محروم کیا گیا کیوں کہ اس نے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دیئے تھے۔نوازشریف کو پابند سلاسل کیا گیا، نوازشریف کی لیڈر شپ میں جو کام ہوئے وہ چیئرمین پی ٹی آئی کو منظور نہ تھے، نواز شریف سے ایک سے زیادہ مرتبہ اقتدار چھینا گیا، جلاوطن کیا گیا، نواز شریف نے پاکستان ے خلاف کسی سازش کا سوچا بھی نہیں۔انھوں نے کہا کہ جس شخص کو فراڈ کے ساتھ وزیراعظم بنایا گیا 4 سال وہ چور ڈاکو کی گردان کرتا رہا، اس شخص نے ایک اینٹ نہیں لگائی، اس کے دورمیں کیا کیا اسکینڈل نہیں ہوئے، جب اٰئینی طریقے سے اسے ہٹایا گیا تو اداروں کے خلاف غلیظ ترین زبان استعمال کی۔