پاکستان کے آئین میں کوئی ابہام نہیں کہ سیاست دانوں کا احتساب دوسرے ادارے کرتے ہیں، عرفان قادر

لاہور (آن لائن) پاکستان کے آئین میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ سیاست دانوں کا احتساب دوسرے ادارے کرتے ہیں، سیاست دانوں کی نااہلی بھی الیکشن کمیشن کرتا ہے، بیوروکریسی کا احتساب کے معاملات مختلف عدالتوں میں جاتے ہیں، پچھلے کچھ سالوں میں دیکھا ہے کہ سپریم کورٹ بھی کہتی ہے کہ ان کیسز کو چلائے، بدعنوانی کرنے والے بچ نہیں سکتے، کچھ جج صاحبان نے احتساب اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے، اگر جج خوداحتسابی کریں گے تو بیوروکریٹ اور سیاست دانوں کو بھی خود احتسابی کرلینا چاہیے، آج کے پاکستان میں میرے کچھ تحفظات ہیں عدلیہ کے فیصلوں میں، خاص طور پر جج صاحب کے حوالے سپریم جیوڈیشل کونسل مضبوط نہیں رہی، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حوالے سے ایک فیصلہ آیا ہے، آئین میں لکھا ہے کوئی بھی جج آگر غلط کرتا ہے تو سپریم جیوڈیشل کونسل کاروائی کرسکتی ہے، آئین میں جس چیز کی وجہ سے ججز کی تنخواہ اور دیگر چیزیں ختم ہوسکتی ہیں، ججز بڑے آرام سے کہتے ہیں ٹھیک ہے ہم استعفی دے دیتے ہیں، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غلط کام کیئے پیسے بنائے استعفی دیا تو تمام چیزیں ان کو ملتی ہیں، ججز کا احتساب کے معاملات کو لائٹ لی نہیں لینا چاہیے، ججز صاحبان بیٹھ کر اداروں کو کنٹرول کریں قانون اور آئین اس کی اجازت نہیں دیتا، محسن کیانی کے حوالے سے الزامات سامنے آئے ہیں، تقریبا چھ کروڑ روپے کے ان کے خاندان نے سفر کیئے، اس طرح کے الزامات آجائے تو سپریم جیوڈیشل کونسل سے جلد از جلد اس کا فیصلہ دیں، اگر کچھ کیا ہے تو اس پر پیش رفت ضروری ہے، کچھ آڈیو لیکس آئی وہ جج صاحبان اور ان رشتے داروں کے حوالے سے تھی، اس سے لگتا تھا انھوں نے اپنی مرضی کے بینچز بنائے، حکومت نے ایک کمیشن بنایا اس کو غیر فعال کردیا گیا، کیا ہم ملک کو انارکی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، افواج پاکستان نے اپنے بہت سے رفقاء کا آرمی ایکٹ میں ٹرائل کیا، جب ریٹائر ہوئے تو نیب میں کاروائی کی، کیا جج صاحبان کو استثنیٰ حاصل ہے، جب تک تمام اداروں کو احتساب میں لے کر نہیں آئے اس وقت تک قانون کی حکمرانی نہیں رہ سکے گی، جب تک ہماری حکومت ہے آئین اور قانون کے تحت چلیں گے، لگ رہا ہے چند لوگ ایک خاص ادارے کو کنٹرول کررہے ہیں، ماضی میں چیف جسٹس نے اپنی مرضی کے بینچز بنا کر پولیٹکل انجیئرنگ کی، دیکھنا ہے جج صاحبان سیاسی معاملات میں نہ الجھے، ریویو پر بھی میرے بہت سے تحفظات ہیں، جن کے خلاف فیصلے ہوجاتے ہیں ان کو اپیل کی اجازت ہی نہیں ہے، دنیا کی عدالتیں قانون پارلیمان بناتی ہے تو کوشش کرتے ہیں آئین کے تحت لے کر چلے، اپیل کی رائٹ ایک دہشت گرد، ایک قتل کرنے والے کو بھی دیتے ہیں، پاکستان میں وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا اس میں بھی اپیل کی اجازت نہیں تھی، خواہ ہم عدلیہ میں ہوں یا انتظامیہ میں ہوں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنا ہے، ڈیڑھ انچ کی مسجد الگ نہیں بنانی، حکومت اور پارلیمان عدلیہ اور سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، ماضی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بابا رحمتا بنادیا گیا تھا، سپریم جیوڈیشل کونسل اوّر سپریم کورٹ کے معاملات مل کر طے کریں، چیف جسٹس اور دیگر ججز سے کہوں گا مل کر معاملات کو طے کریں، افتخار چوہدری جیسے معاملات سامنے آئے گے تو بات ان تک بھی جاسکتی ہے، جج ریٹائر ہو بھی جائے تو اس کے غلط کنڈکٹ کو چھوڑا نہیں جاسکتا، قانون میں وضاحت کردی ہے کہ کوئی بھی نااہلی پانچ سال سے زیادہ نہیں رہ سکتی، نواز شریف کا ایک کیس رہ جائے گا، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ کسی شخص کو تاحیات نااہل نہیں کیا جاسکتا، پوری پارلیمان بیٹھے گی تو دو تہائی سے آئین میں ترامیم ہوگی، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی کو دیکھا جائے گا، معاشی خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ ادارے مستحکم ہوں، آئین کو ری رائیٹ کرکے پنجاب کی حکومت گرادی گئی، ایک ادارہ یا چند لوگ دوسرے ادارے پر چڑھے گے تو منفی صورتحال پیدا ہوگی، قانون اپنا راستہ لے گا اور جو بھی غلط کرے گا اس کو بالکل رعایت نہیں ملے گی۔ فوج کی بلڈنگز پر حملہ کرنا املاک کو نقصان پہنچانا عام آدمی ہوں یا سویلین ہوں ان کے کیسز فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔