ماسکو،واشنگٹن(آن لائن) روس کے صدر ولای میرپیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا پہلا گروپ بیلا روس منتقل کردیاگیا ہے،یہ پیغام ہے ان قوتوں کیلئے جو روس کو شکست دینے کے خواب دیکھ رہے ہیں،ان کیلئے یہ واضح پیغام ہے کہ روس اپنا دفاع کرنا خوب جانتا ہے۔یوکرین کا جنگ میں نقصان ہم سے دس گنا زیادہ ہے،اس کے ہتھیار تیزی سے ختم ہورہے ہیں،آنے والے وقت میں اس کا مکمل انحصار مغرب پر ہوگا۔ ولادی میر پیوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک اقتصادی فورم کے دوران کہا کہ پہلے جوہری وار ہیڈز کو بیلاروس کی سرزمین پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ صرف پہلا ہے۔ موسم گرما کے اختتام تک ہم یہ کام مکمل طور پر مکمل کر لیں گے انہوں نے کہا کہ بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ مارچ میں اعلان کردہ ایک معاہدے کا نتیجہ ہے۔ بیلا روس نے یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے اپنے ملک کی سرزمین ماسکو کے اختیار میں رکھی تھی۔ پیوٹن نے کہا کہ یہ معاملہ ان لوگوں کے لیے واضح پیغام ہے جو روس کو شکست دینے کے خواب دیکھ رہے ہیں پیوٹن نے کہا کہ یوکرینی افواج کے جوابی حملے میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پیوٹن نے انکشاف کیا کہ جنگ میں یوکرین کی فوج کا نقصان روسی فوج کے نقصانات سے 10 گنا زیادہ ہے یوکرینی فوج کے سازوسامان کے نقصانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پوتین نے تبصرہ کیا کہ سامان میں ہونے والے نقصانات میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ آج تک یوکرین کی فوج مختلف ماڈلز کے 186 ٹینک اور 418 بکتر بند گاڑیاں کھو چکی ہے اس کا اسلحہ تیزی سے ختم ہورہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا مکمل انحصار مغرب پر ہوگا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے روسی صدر کے ان بیانات کی مذمت کردی جس میں انھوں نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کا اشارہ دیا تھا۔ وائٹ ہاس نے اس بات کی بھی تردید کردی کہ امریکہ نے صدر پیوٹن کے ریمارکس کے جواب میں اپنی جوہری حیثیت میں کوئی تبدیلی کی ہے۔ وائٹ ہاس کی نائب ترجمان اولیویا ڈالٹن نے بھی نیٹو کے مشترکہ دفاع کے اصول پر امریکہ کے عزم کی تصدیق کردی۔دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے بیلاروس میں جوہری وار ہیڈز کی تعیناتی کے بعد امریکہ کے پاس اپنی جوہری حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہمیں روس کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر آمادگی کا کوئی اشارہ نظر نہیں آتا۔ بلینکن نے یہ بھی کہا کہ روسی صدر کی جانب سے بیلاروس کو جوہری ہتھیاروں کی منتقلی ایک ستم ظریفی ہے۔
Load/Hide Comments



