نئی دہلی (آن لائن) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے واشنگٹن کے سرکاری دورے سے قبل بائیڈن انتظامیہ بھارت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ امریکی ساختہ درجنوں مسلح ڈرونز کے معاہدے کو آگے بڑھائے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے طویل عرصے سے امریکا سے بڑے مسلح ڈرون خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن بیوروکریٹک رکاوٹوں کے سبب سی گارڈین ڈرونز کا متوقع معاہدہ تعطل کا شکار رہا جس کی مالیت 2 ارب ڈالر سے لے کر 3 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔امریکی مذاکرات اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے 22 جون کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے وائٹ ہاؤس کے دورے پر انحصار کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم کی دورہ امریکا کے دوران 22 جون کو وائٹ ہاوس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات طے ہے اس حوالے سے امریکی مذاکرات کار پْرامید ہیں کہ اس ملاقات میں ڈرونز خریداری معاہدے میں حائل رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کی تاریخ طے کی جاچکی ہے، دورے سے قبل امریکی محکمہ خارجہ، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ جنرل ایٹامکس کے ذریعہ بنائے گئے 30 سے زیادہ قابل مسلح سی گارڈین ڈرونز کے معاہدے پر پیشرفت دکھائے۔وائٹ ہاؤس، محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے ترجمان نے ان مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو بھارتی حکومت کو کرنا ہوگا، ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرونز کی خریداری ان کے لیے اچھا فیصلہ ہوگا لیکن یہ فیصلہ ہم سے زیادہ بھارت کے ہاتھ میں ہے۔
Load/Hide Comments



