لاہور (آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کیخلاف دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں پولیس کے درمیان جھڑپوں اور جلا ؤگھیرا کا سلسلہ جاری رہا۔ شادمان کے علاقہ میں پولیس سٹیشن پر دھاوا بولا گیا، توڑ پھوڑ کے ساتھ کئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ کینال روڈ میدان جنگ بنا رہا، کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس نے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ اس طرح گرفتار افراد کی تعداد ایک ہزار سے ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق خاتون رہنما عالیہ حمزہ، سابق صوبائی وزیر خیال احمد کاسترو سمیت دیگر کئی افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک سے ملحقہ کینال روڈ میدان جنگ بنا رہا۔ پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں کی جانب سے پولیس پر وقفے وقفے سے پتھراؤ کیا جاتا رہا جس کے جواب میں پولیس نے بھی واٹر کینن کا استعمال کیا اور آنسو گیس کے شیلز فائر کئے، پولیس نے کئی مشتعل کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کینال روڈ ٹریفک کے لئے بند رہی۔پولیس ترجمان کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان زمان پارک کے باہر موجود پولیس کی نفری پر غلیلوں سے حملے کرتے رہے۔ پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے شادمان میں پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران پولیس اسٹیشن کی عمارت میں موجود تمام سامان توڑ دیا گیا جبکہ مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب میں فوج کو طلب کیا گیا ہے۔پنجاب کے بڑے شہروں بالخصوص لاہور اور فیصل آباد میں فوج ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرے گی اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج کے دستے تعینات کیے جائیں گے۔صوبے بھر میں سرکاری املاک پر حملوں، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیرا میں ملوث شرپسندوں کے خلاف پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے مختلف اضلاع سے 1050 سے زائد شرپسند عناصر کو گرفتار کر لیا۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ویڈیو فوٹیجز، سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کی مدد سے شرپسندوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے اور شرپسند و قانون شکن عناصر کا تمام ریکارڈ ان کے کریکٹر سرٹیفکیٹیں درج کیا جا رہا ہے.
Load/Hide Comments



