اسلام آباد(آن لائن) افغان عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاک، چین، افغان سہہ فریقی اجلاس میں طے ہوا کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف زمینی یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ہماری خارجہ پالیسی مذاکرات اور تعاون پر مبنی ہے،پاکستان کے ساتھ تجارتی راہداری، اقتصادی، کاروباری تعلقات کو وسعت دینا ترجیح ہے، پاکستان اور افغانستان کو انتہائی گھمبیر سیاسی و سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کا پروپیگنڈہ اتنا ہوا کہ اب ہر کوئی اس پر یقین کرنے لگا ہے، افغانستان کے 9 ارب ڈالر منجمد ہیں، جو واپس ہونے چاہئیں،پاکستانی حکومت اور ٹی ٹی پی سے استدعا ہے کہ وہ بیٹھیں اور بات چیت کریں۔مرکز برائے افغانستان، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے زیر اہتمام مذاکر ہ اور ادارہ برائے تذویراتی مطالعہ اسلام آباد میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں افغان عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی مہمان خصوصی تھے۔افغان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے بہت سے مایوس کن تجزیے مکمل طور پر دم توڑ چکے ہیں ابتداء سے ہی خطے اور ہمسایہ ممالک کے لیے ہماری خارجہ پالیسی مذاکرات اور تعاون پر مبنی ہے،پاکستان کے ساتھ تجارتی راہداری، اقتصادی، کاروباریتعلقات کو وسعت دینا ترجیح ہے افغانستان، جنوبی ایشیاء اور وسط ایشیاء کو جوڑنے کے لیے اپنی کاوشیں کر رہا ہے چاہتے ہیں کہ افغانستان کے راستے وسط ایشیاء اور جنوبی ایشیاء منسلک ہوں، ترقی کریں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خطے کی مجموعی خوشحالی کے لیے کام کر رہے ہیں تمام تر چیلنجز کے باوجود ہم مسلسل ترقی و خوشحالی کے لیے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کابل میں داخل ہوئے تھے تو افغانستان مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار کر رہا تھاافغانستان کا خزانہ بری طرح لوٹا گیا، خزانہ خالی، ادارے دیوالیہ، بیرونی پابندیاں تھیں،بینک بیرونی دنیا سے خام مال بھی لینے کے لیے رقم نہیں تھی ملک میں سماجی ترقی کے لیے فنڈز دو گنا کر دیے، سیکیورٹی فورسز کو دوبارہ فعال کیا اور آج عالمی بینک کہتا ہے افغان طالبان حکومت کے آنے کے بعد افغانی کرنسی مضبوط ہوئی،افغانستان نے پہلی بار 2.6 ارب ڈالر کا بجٹ بغیر بیرونی امداد کے، خالصتا اپنے وسائل سے تشکیل دیا، گزشتہ افغان حکومت نے 875 ملین ڈالر کی برآمدات کیں،طالبان کی افغان حکومت نے 2022ء میں برآمدات کا 1.5 ارب ڈالر کا ہدف رکھا،یہ امر باعث مسرت ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ہم نے ہدف سے زائد 1.9 ارب ڈالر حاصل کیا۔افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کا تمام تر توجہ اقتصادیات، اور علاقائی ربط و منسلکی پر ہے افغانستان تاپی گیس پائپ لائن، کاسا ایک ہزار، ٹرانز افغان ریلوے اور دیگر ربط منصوبوں پر مرکوز ہے افغانستان میں زراعت، آبی وسائل، معدنیات اور دیگر شعبوں کی ترقی پر مرکوز ہے پاکستان اور افغانستان کے مابین ہمسائیگی سے آگے کے تعلقات ہیں.
Load/Hide Comments



