لاہور(آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پی سی بی کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ ہم ایشیا کپ کی میزبانی سے دستبردار نہیں ہوں گے،بطور کپتان ہمیں بابر کو سپورٹ کرنا چاہیے اور اس معاملے کو قومی ٹیم کے مفاد میں متنازع نہیں بنانا چاہیے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ایشیا کپ کے لیے جو فیصلہ ہوگااس کے اثرات ورلڈکپ پر بھی پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایشیا کپ کے میچ بھارت تیسرے ملک میں کھیلا تو ہائبرڈ ماڈل ورلڈکپ میں پاکستان کے لیے بھی ہوگا، بھارت سے کہہ دیا ہے کہ ہماری حکومت اور عوام ہمارے اس مو قف کی تائید کرتی ہے، آپ نہیں آتے، تو ہم وہاں کیسے جائیں۔نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے ریڈ لائن ہے، بھارت ایشیا کپ کھیلنے پاکستان آئے یا تیسرے ملک میں کھیلے، پاکستان کو ایشیا کپ کے بائیکاٹ پر ایک ارب کا نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ورلڈکپ میں بھارت جانے سے انکار پر آئی سی سی سے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے لیکن بھارت کو دو ٹوک کہا ہے حکومت اگر پاکستان جا کر کھیلنے سے منع کر رہی ہے تو تحریری ثبوت دیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی بورڈحکومتی انکار پر کوئی ٹھوس شواہد دینے میں ناکام رہا ہے، پاکستان سپر لیگ سے اب اتنے پیسے کما لیتے ہیں کہ ا?ئی سی سی نقصان کا ازالہ کرسکتے ہیں۔دریں اثناء ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں بابر اعظم کی کپتانی سے متعلق ہونے والی چہ مگوئیوں پر ردعمل دیتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کئی ماہ سے کرکٹ اور میڈیا کے حلقوں میں بابر اعظم کو کپتان برقرار رکھنے کے فائدہ اور نقصان پر بحث ہو رہی ہے، بابر کو تینوں فارمیٹ کا کپتان برقرار رکھنے پر بحث کی جارہی ہے۔ یہ فیصلہ چیئرمین کا ہے، میں نے پہلے چیئرمین سلیکشن کمیٹی شاہد آفریدی اور اب ہارون رشید کے خیالات جانے۔انہوں نے کہا کہ دونوں کمیٹیوں کا خیال تھا کہ یہ بات میرٹ پر پورا اترتی ہے کہ اس پر بحث ہو، اس کے بعد دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ صورتحال جوں کی توں رہنی چاہیے، میں نے پبلک میں اس تمام صورتحال کو بیان کیا۔نجم سیٹھی نے کہا حتمی تجزیہ یہ ہے کہ اس کا فیصلہ موجودہ صورتحال کی کامیابی اور ناکامی سے مشروط ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے سلیکٹرز، ڈائریکٹرز کرکٹ آپریشنز اور ہیڈکوچ رہنمائی کریں گے، مجھے توقع ہے کہ وہ مجھے مشورہ دینے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہوں گے۔چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ ہمیں بابر کو سپورٹ کرنا چاہیے اور اس معاملے کو قومی ٹیم کے مفاد میں متنازع نہیں بنانا چاہیے۔
Load/Hide Comments



