کوئٹہ (آن لائن) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے منیجر اعظم خان نے اپنی ٹیم کی تین سالہ مایوس کن کارکردگی پر اپنے ہی ساتھیوں پر دبے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ہیجبکہ ٹیم کے اندرونی معاملات سے خود کو بری الزمہ قرار د یا ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق منیجر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال سے پی ایس ایل کی ڈرافٹنگ کا حصہ نہیں رہا، ٹیم منتخب کرنے میں اونر ندیم عمر، کوچ معین خان اور میڈیا منیجر نبیل ہاشمی کا کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم سلیکشن میں بھی میرا رول واضح نہیں ہے، بدقسمتی سے جو ٹیم بن رہی ہے وہ دو تین سال سے اچھی کارکردگی نہیں دکھا پا رہی۔ان کا کہنا تھا منیجر کا کام ٹیم جوڑنا نہیں ہوتا وہ معاملات کو مینج کرتا ہے، کپتان سرفراز احمد کو لاہور قلندرز کے خلاف میچ جتوانا چاہیے تھا لیکن برا وقت ہوتا ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے، سرفراز دو سال سے اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہے لیکن کسی بھی کرکٹر کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، سرفراز کو مسلسل ٹارگٹ کرنا مناسب نہیں ہے۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے منیجر کا کہنا تھا سعود شکیل گزشتہ دو تین سال سے ٹیم کے ساتھ ہیں، ٹیسٹ کی بہترین کارکردگی پر انھیں دوبارہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بنایا گیا تھا لیکن ٹیم کے تھنک ٹینک نے انھیں کھلانا بہتر نہیں سمجھا۔ان کا کہنا تھا کوچ اور کپتان جب پلئینگ الیون بناتے ہیں تو بدقسمتی سے سعود شکیل کی جگہ نہیں بنی ہو گی، میرے خیال میں انھیں موقع ملنا چاہیے تھا، ان کے ٹوئٹ سے نقصان یا فائدہ ان ہی کا ہو گا۔اعظم خان کا کہنا تھا ڈرا فٹنگ کے سب سے مہنگے کھلاڑی ہسارنگا کے نہ آنے سے ٹیم کا بیلنس متاثر ہوا، ورلڈ کلاس اسپنر مشکلات سے ٹیم کو باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ جیسن رائے کی غیر موجودگی بھی ٹیم کومبینیشن پر اثر انداز ہوئی۔انہوں نے کہا کہ رمضان کرکٹ ٹورنامنٹس میں میری تیار کردہ ٹیم کھیل رہی ہے، اس ٹیم کی ہر اچھی بری کارکردگی کا ذمہ دار میں ہوں۔
Load/Hide Comments



