سپریم کورٹ، آرٹیکل 184/3 کے مقدمات پر سرکلر جاری

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے تین رکنی بنچ کے فیصلہ کو عدالت عظمی کے ہی ایک پانچ رکنی لارجر کے متفقہ فیصلہ کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد قرار دے دیا ہے۔جمعہ 31 مارچ کو عدالت عظمی کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کے فیصلے میں ازخودنوٹس کا اختیار استعمال کیا گیاھے،اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار ھے،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ھے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے فیصلے میں آرٹیکل 184 تین سے متعلق ابزرویشن ازخود نوٹس کے زمرے میں نہیں آتی ھے،دو رکنی بنچ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے صحافیوں سے متعلق ازخودنوٹس کیس کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے منافی ھے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس میں درخواست سے ہٹ کر فیصلہ دیا گیا۔سرکلر میں مزید کہا گیا کہ حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس میں از خود نوٹس کی کارروائی کی گئی جو غیر قانونی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کا فیصلہ دو ایک کے تناسب سے ہے۔سرکلر کے مطابق پانچ رکنی لارجر بینچ چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کا اختیار واضح کر چکا ہے،رجسٹرار سپریم کورٹ کو سرکولر سے متعلق کیس کے فریقین کو آگاہ کرنے کا کہا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے کیس کا فیصلہ مسترد کیا جاتا ہے۔ایک صفحہ پر مشتمل مزکورہ اعلامیہ رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کے دستخطوں سے جاری کیا گیا ہے.