نیویارک (آن لائن)اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ترکیہ و شام میں آنے والے ہولناک زلزلے کے باعث نقصان 100 بلین ڈالرز سے زیادہ ہوا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یواین دی پی) کے اہلکار نے ڈونر کانفرنس سے قبل کہا کہ زلزلے کے باعث غیر معمولی تباہی ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والا نقصان 100 بلین ڈالرز کو تجاوز کر جائے گا۔ یو این ڈی پی کی لوئیسا ونٹن نے گازیانٹیپ سے ویڈیو لنک کے ذریعے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ آج تک کیے جانے والے حسابات سے یہ واضح ہے کہترکیہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ہونے والے نقصان کے اعداد و شمار 100 بلین ڈالرز سے زیادہ ہوں گے۔لوئیسا ونٹن نے مزید کہا کہ ترکیہ کے ایک شہر کو زلزلوں میں شدید نقصان پہنچا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 6 فروری کو آنے والے زلزلوں سے جنوبی ترکیہ اور شمال مغربی شام میں 52,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے ان میں سے زیادہ تر بدقسمت لوگ نیند میں ہی کچلے گئے جبکہ باقی ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے۔سوتے ہی کچلے گئے یا دفن کر دیے گئے۔ یو این ڈی پی کی لوئیسا ونٹن کے مطابق عارضی نقصان کے اعدادوشمار ترکیہ کا احاطہ کرتا ہے جسے 16 مارچ کو ہونے والی ڈونر کانفرنس کی بنیاد پر بچ جانے والوں اور تعمیر نو کے لیے رقم جمع کی جائے گی۔ یاد رہے کہ عالمی بینک نے پہلے ترکیہ میں ہونے والے براہ راست نقصان کا تخمینہ 34.2 بلین ڈالرز لگایا تھا۔لیکن حال ہی میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے اور زلزلوں سے پیدا ہونے والی اقتصادی رکاوٹوں سے منسلکترکیہ کی مجموعی گھریلو پیداوار کو ہونے والے نقصانات بھی لاگت میں اضافہ کریں گے۔
Load/Hide Comments



