اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف عمران خان کی تقریر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی رہاست کے خلاف دشنام طرازی کی اجازت نہیں دینگے،دباؤ دھونس دھاندلی بلیک میلنگ قبول نہیں جبکہ لانگ مارچ کے معاملے پر مذاکرات کے حوالے سے 11 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دید ی گئی جس کے سربراہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ہوں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادیوں سے موجودہ صورتحال پر مشاورت کی ہے،مشاورتی اجلاس کے دوران نواز شریف،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطے کیے گئے، اتحادیوں سے ہونیوا لی ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ اور فوج مخالف ایجنڈے پر تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ عمران خان کے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف براہ راست الزامات اور مہم پر مقدمے پر بھی غور کیا گیا۔ مشاورتی اجلاس کے دوران وزیراعظم شہبا ز شریف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف عمران خان کی تقریر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو یہ باور کرایا کہ دباؤ دھونس دھاندلی بلیک میلنگ قبول نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو رہاست کے خلاف دشنام طرازی کی اجازت دینگے،یہ شخص فتنہ و فساد ہے جو ریاست کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔تحریک انصاف اگر بات چیت کرنا چاہے گی تو ہم نے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کی تقریر پر بھارتی میڈیا جشن۔منارہا ہے،اس شخص کے ہوتے کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ مشاورتی اجلاس میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں 11رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں اتحادی بھی شامل ہونگے،کمیٹی امن وامان یقینی بنانے اور مذاکرات کے حوالے سے قائم کی گئی ہے۔کمیٹی کے اراکین میں ایاز صادق،سعد رفیق،مریم اورنگزیب،خالد مقبول صدیقی،میاں افتخار،اسعد الرحمان،قمرزمان کائرہ اور خالد مگسی شامل ہیں۔
Load/Hide Comments



