اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی نااہلی میانوالی کی نشست پر ہو ئی وہ آج بھی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کی عمران خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو آڈر کی کاپی مل گئی ہے جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دو صفحات ملے ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو اتنی ایمرجنسی کیا ہے آپ کی درخواست پر اعتراضات کیا ہیں جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بائیو میٹرک اور مصدقہ نقول سے متعلق اعتراضات ہیں ہمیں مصدقہ فیصلے کی نقول نہیں فراہم کی جا ر ہی ہیں۔ عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی عدالت نے کہا کہ جب فیصلہ نہیں ہے تو یہ عدالت کس فیصلے کو معطل کرے گی جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 30 تاریخ کو کرم ایجنسی میں الیکشن ہونے جارہا ہے یہ عدالت شارٹ آرڈر کو معطل کرے اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ اس آرڈر کی سرٹیفائیڈ کاپی موجود ہے جس پر بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن ہمیں سرٹیفائیڈ کاپی فراہم نہیں کررہے اس موقع پر عدالت نے آپکا موکل پارلیمنٹ واپس تو نہیں جارہے جس پر ڈی سیٹ ہوادیگر حلقوں پر تو یہ نااہلی ہوتی نہیں یہ صرف اس ایک سیٹ کی حد تک ہے اس میں جلدی کیا ہے؟ اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے چند دن بعد الیکشن لڑنا ہے نااہلی کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے عدالت نے استفسار کیا کہ کون کے سیکشن کے تحت الیکشن کمیشن نے کارروائی کی جس پر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ 63 ون پی کے تحت الیکشن کمیشن نے کارروائی کی جس پر عدالت نے کہا یہ نااہلی تو اس حد تک ہی ہے جس کے لیے وہ پہلے منتخب ہوئے تھے اس موقع پر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ چھ حلقوں سے ہم الیکشن جیتے اور اب پھر الیکشن لڑنا ہے الیکشن کمیشن نے فیصلہ اپنی ویب سائٹ پر ڈالا ہے میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ عدالت کوئی نئی مثال قائم نہیں کرنا چاہتی اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا ہے اس موقع ہر عدالت نے کہا کہ عدالت لکھ دے گی توقع کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آپ کو مصدقہ کاپی دے دے گاتین دنوں میں کچھ نہیں ہونے جا رہا آپ انتظار کر لیں عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آج دن کا ہی کوئی وقت رکھ لیں جس پر عدالت نے کہا کہ تین دنوں میں کچھ نہیں ہوتاآپ اعتراضات دور کرے اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آپ نے ابھی اڈیالہ جیل کیس میں آج ہی حکم پر عمل درآمد کا کہا جس پر عدالت نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں قیدیوں پر تشدد کیا جارہا ہے ایک مختلف کیس ہییہ عدالت نیا مختلف پریسڈنٹ نہیں سیٹ کرسکتی اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے نیا پریسڈنٹ سیٹ کیا ایسا نہیں ہوتا کہ فیصلہ سنایا جائے اور آرڈر ہی نہ ہو ہمیں خوف ہے کہ الیکشن کمیشن فیصلے میں تبدیلی کرے جس پر عدالت نے کہا کہ اس عدالت کے جعلی آرڈر جاری کر دیے گئے اس پر ایکشن بھی ہوا نہ ہی آپ کو مصدقہ کاپی ملی ہے نا ہی آپ کو کوئی جلدی ہے اگر کچھ ہوا تو یہ عدالت دیکھے گی مصدقہ فیصلے کی کاپی چاہیے ہم الیکشن کمیشن کے مصدقہ فیصلہ آنے سے پہلے حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے تفصیلی فیصلہ آنے تک ملتوی کر دی گئی۔
Load/Hide Comments



