لاہور (آن لائن) سنی اتحاد کونسل پاکستان اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں سنی اتحاد کونسل سے وابستہ 30 سے زائد جید مفتیانِ کرام کے وفد نے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے انکی رہائشگاہ پر اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی صورتحال، لانگ مارچ اور انتخابات کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سنیٹر شبلی فراز بھی موجود تھے۔ عمران نے صاحبزادہ حامد رضا کی بین المذاھب ہم آہنگی کے حوالے سے کوششوں کو بھی سراہا۔ عمران خان نے مفتیانِ کرام کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انبیاء کرام کی ناموس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی ہونی چاہئے۔ پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے۔ محب وطن قوتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مستحکم پاکستان عالم اسلام کی ضرورت ہے۔علماء نوجوان نسل میں امن پسندی بیدار کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ مغربی قوتیں مسلمانوں کے جذبہ عشقِ رسول سے خائف ہیں۔ مفتیان کرام کے وفد نے کہا اسلامو فوبیا کے متعلق عمران خان کی تاریخی قرارداد کی او آئی سی کیاجلاس سے منظوری اور 15مارچ کو اسلامو فوبیا کا عالمی دن قرار دینا عظیم کارنامہ ہے۔ تعلیمی نصاب میں قرآن وسنت، ناظرہ/ ترجمہ قرآن لازمی، رحمتہ اللعالمین اتھارٹی کا قیام اور دنیا بھر اسلام کا درست تشخیص اجاگر کرنے، ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا مقدمہ اقوام متحدہ میں لڑنا قابل ستائش اقدام ہیں۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف دوبارہ اقتدار میں آکر ملک میں نظام مصطفیؐ کا عملی نفاذ کرے کیونکہ تمام مسائلِ کا حل نظام مصطفی کے نفاذ میں مضمر ہے۔ علاوہ ازیں صاحبزادہ حامد رضا نے عمران خان سے ون آن ون ملاقات کی۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں لانگ مارچ اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کی گئی۔
Load/Hide Comments



