قانون کے مطابق جو نام ڈراپ ہو جائے اسے دوبارہ زیر غور نہیں لایا جا سکتا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد(آن لائن)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ جوڈیشل کمیشن اجلاس (28 جولائی) میں ڈراپ ہونے والے نام دوبارہ زیر غور لانے پر چیف جسٹس آف پاکستان،چیئرمین جوڈیشل کمیشن آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے نام لکھے خط میں اعتراض اٹھایا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے سابقہ اجلاس میں جن نے ناموں کی منظوری نہیں ہوئی تھی انہیں دوبارہ شامل کیوں گیا۔قانون کے مطابق جو نام ایک دفعہ منظور نہ ہو سکے، ڈراپ کر دیا جائے اسے دوبارہ زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔واضح رہے پیر 25 اکتوبر کو بلائے جانے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان/چیئرمین جوڈیشل کمیشن آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس شفیع صدیقی کے نام دوبارہ غور کے لئے شامل کئے گئے ہیں۔جن پر ممبر جوڈیشل کمیشن و سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراض اٹھایا ہے۔واضح رہے پیر کو بلائے جانے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ہائیکورٹس کے 4 ججز کے نام بطور جج سپریم کورٹ کیلئے زیر غور لائے جانے ہیں۔ جن میں جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شاہد وحید، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شفیع صدیقی شامل ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان چار ناموں میں تین تین نامزدگیوں پر اعتراض اٹھایا ہے۔