اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل قومی ترجیح ہے، ہم اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں، سیلاب کے بعد بحالی کے منصوبوں کیلئے اربوں روپے کے قرض درکار ہیں۔تفصیل کے مطابق وزیراعظم آفس سے جاری سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھڑے پانی کی تصویر کے ساتھ کئے گئے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فنانشل ٹائمز کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ جو کچھ ہمارے مطالبات ہیں اور جو کچھ ہمیں موصول ہو رہا ہے اس میں بہت بڑا فرق ہے، ہم ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور ہم اس کا شکا رہیں۔انہوں نے کہا کہ آج اگر ہم اس کا شکار ہیں تو کل کوئی دوسرا ملک اس کا شکار ہو سکتا ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کو ری شیڈول کرنے کی کوشش نہیں کر رہا لیکن اسے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر نو جیسے بڑے منصوبوں کے لیے خطیر رقم درکار ہے، سائنسدانوں نے سیلاب کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ قرار دیا ہے، ہم صرف موسمیاتی انصاف مانگ رہے ہیں، تلافی کا لفظ بالکل استعمال نہیں کر رہے۔دریں اثناء لاہور میں اپنی رہائشگاہ پر ”فنانشل ٹائمز”کو ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم کسی بھی قسم کے اقدامات بشمول ری شیڈولنگ یا موریٹوریم کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ اضافی فنڈز مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات اور جو کچھ ہمیں موصول ہوا ہے اس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جو روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے، ہم واضح طور پر فکر مند ہیں کیونکہ اگر عدم اطمینان گہرے سیاسی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے اور ہم اپنے بنیادی تقاضوں اور اہداف کو پورا نہیں کر پاتے ہیں تو یہ ظاہر ہے کہ گھمبیر مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں یہ کسی بھی قسم کے خطرے کے لحاظ سے نہیں کہہ رہا لیکن اس کا حقیقی امکان موجود ہے، ہم صرف موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہم ”معاوضہ”کا لفظ بالکل استعمال نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاں سے بھی ہو سکے اضافی فنڈز حاصل کرے گا، ہم موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی کا شکار ہیں اور اس کے خلاف جنگ میں ہیں، کل کوئی دوسرا ملک بھی ہو سکتا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل قومی ترجیح ہے، سی پیک کے تحت پاکستان میں صنعتی ترقی کے نئے دور کا ا?غاز ہونے جا رہا ہے، ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے کی معاشی بحالی اور ترقی کا سبب بنے گا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت چین پاکستان اقتصادی
راہداری اور دیگر چینی منصوبوں پر پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں بالخصوص مین لائن ون (ایم ایل ون)، کراچی سرکلر ریلوے، قراقرم ہائی وے و دیگر منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اس کے علاوہ 10 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے اور پن بجلی کے منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی، اجلاس کو سی پیک منصوبوں کی موجودہ صورتحال، جاری کام اور مستقبل میں ان منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل پیش کیا گی، اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے وزیرِ اعظم کا کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنانے پر شکریہ ادا کیا۔وزیرِ اعظم نے سی پیک منصوبوں کی مقررہ نہ مدت میں تکمیل کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے ان پر کام کرنے کی ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبہ پاکستان کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبہ پاکستان کی بندرگاہوں کو چین اور وسط ایشائی ریاستوں سے جوڑ کر ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، وسط ایشیائی ریاستوں سے ریل کے ذریعے رابطہ پورے خطے کی ترقی و خوشحالی کا باعث بنے گا، یہ منصوبہ پاکستان ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور وفاق کی علامت ہے، مین لائن ون منصوبہ پاکستان ریلوے کی معاشی بحالی و ترقی کا باعث بنے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شمسی توانائی کے منصوبوں میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہیں، حکومت گزشتہ چار سال کے سیاہ دور میں سی پیک کے تعطل کے شکار منصوبوں میں نئی روح پھونک کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر برق رفتاری سے تکمیل کر رہی ہے، سی پیک اب گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ مرحلے سے نکل کر بزنس ٹو بزنس والے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، سی پیک کے تحت اب پاکستان میں صنعتی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
Load/Hide Comments



