عدالتوں اور احتساب کے اداروں کو غیر مؤثر کرنا ہے تو انھیں تالے ہی لگا دیے جائیں، سراج الحق

اسلام آباد (آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ریاست کے بنیادی ستونوں کو دیمک لگ چکا ہے۔ عدالتوں اور احتساب کے اداروں کو غیر مؤثر کرنا ہے تو انھیں تالے ہی لگا دیے جائیں تاکہ ان پر قومی خزانے سے ہونے والے اخراجات بچ سکیں۔ وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے جہاں فیصلے افراد کے چہرے دیکھ کر ہوں۔ حضور پاک? نے جو نظام دیا وہاں کوئی شخص احتساب سے بالاتر نہیں تھا۔ نبی مہربان? نے خود اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا، مگر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں قانون کی حکمرانی کا تصور تک نہیں۔ حکمرانوں نے 22کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے جو اپنی ذات اور خاندان کے علاوہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اگر ملک میں کڑا احتساب ہو جائے توپی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے بیشتر ارکان جیلوں میں ہوں گے۔ موجودہ اور سابقہ حکمران ملکی مسائل کے ذمہ دار، مگر سب سے زیادہ افسوس ان اداروں پر ہوتا ہے جو کبھی اپنا بوجھ ایک پلڑے میں اور کبھی دوسرے پلڑے میں ڈالتے ہیں۔ عوام فرسودہ باطلانہ نظام اور اس کے رکھوالوں کے خلاف جدوجہد کریں۔حضور پاک? نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں دیا، آپ? سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ملک میں ان کے دیے گئے نظام کو نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں سیرت رحم? اللعلمین? کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عالمی محفل حسن قر?ت بھی منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کے نامور قراء حضرات نے شرکت کی۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، چیئرمین علماء و مشائخ رابطہ کونسل خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، صدر علماء و مشائخ رابطہ کونسل میاں مقصود احمد، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہداور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔