اسلام آباد (آن لائن)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی سماعت کے دوران وکیل سے کہا کہ ہم آپ کو 5 دن دے دیتے ہیں، مطمئن کریں آپ پارلیمنٹ واپس جانا چاہتے ہیں، پٹیشنرز بیان حلفی دے دیں کہ پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے،پارلیمنٹ کا بہت احترام ہے،اس کی بہت بے توقیری ہوگئی ہے،جمہوریت کا مذاق نہ بنائیں،سیاسی تنازعات حل کرنے کیلئے بہترین فورم پارلیمنٹ ہی ہے،عوامی بہترین مفاد میں یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ ہو،پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی، پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان، شاندانہ گلزار سمیت دیگر اراکین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو پارلیمنٹ کا احترام ہے، اس سے قبل بھی ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی، کیا یہ سیاسی جماعت کی پالیسی ہے؟ ابھی تک باقیوں کے استعفی ہی منظور نہیں ہوئے، عوام نے اعتماد کر کے نمائندوں کو پارلیمنٹ بھجوایا ہے۔یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی، عدالت نے شکور شاد کیس میں بھی صرف نظرثانی کا کہا ہے، یہ سیاسی تنازعات ہیں، سیاسی جھگڑے دور کرنے کی جگہ پارلیمنٹ ہے، آپ کو دیگر ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنا چاہئے، کیا یہ مستعفی ارکان واقعی پارلیمنٹ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے یا نہیں؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے، اسپیکر نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی.
Load/Hide Comments



