اسلام آباد (آن لائن) صدر مملکت عارف علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران ایوان تقریباً خالی رہا اور ملکی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑی اپوزیشن کے ساتھ حکومت نے بھی سالانہ صدارتی خطاب کا بائی کاٹ کر دیا۔تحریک انصاف نے عارف علوی کو صدر منتخب کیا ہے اور وہ سینٹ کی کارروائی میں باقائدہ حصہ لیتی ہے لیکن صدر کی ا?مد پو انکے سینیٹرز بھی باہر چلے گئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاریمانی روایات کے برعکس صدرمملکت کا استقبال نہیں کیا بلکہ وہ اجلاس میں بھی نہیں ا?ئے۔ صدر مملکت نے 442 ارکان کے ایوان میں صرف 14 اراکین سے خطاب کیا،ایوان میں صرف پی ٹی آئی کے منحرف اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹرز موجود تھے، ان میں مشاہد حسین سید، وجہیہ قمر،جویریہ اختر، کشور زہرہ، ریاض مزاری، سائرہ بانو، نسیمہ احسان شاہ، ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ، انوار الحق کاکڑ، سرفراز بگٹی، غوث بخش مہرشامل ہیں۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے صدر مملکت کے خطاب کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا جبکہ پی ٹی ا?ئی کے ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلی کو نہیں مانتے اس لیے بائیکاٹ کیا، مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی کر رہے ہیں ہم انہیں نہیں مانتے۔اسپیکر کی جانب سے اراکین کو نشستوں پر جانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
Load/Hide Comments



