اسلام آباد (آن لائن)پاکستان میں تعینات امریکی سفیر آزاد جموں و کشمیر کا تین روزہ دورہ مکمل ہونے کے بعد اسلام آبادپہنچ گئے،دورے کے دوران امریکی سفیر نے وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویرالیاس اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں جبکہ خطے کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔تفصیل کے مطابق پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلَوم نے 2سے چار اکتوبر کے تک آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کیا جس کا مقصد امریکہ اور پاکستان کے درمیان شراکت داری کا فروغ اور دونوں مْلکوں کے درمیان گہرے معاشی، ثقافتی اور عوامی روابط کو اْجاگر کرنا تھا۔سفیر ڈونلڈ بلَوم نے اپنے قیام کے دوران آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم تنویر الیاس اور علاقہ کے تعلیمی، کاروباری اور ثقافتی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ مظفر آباد میں سفیر بلَوم نے 2005میں آنے والے زلزلہ کے متاثرین کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور اْن کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی پچھتر برسوں پر محیط شراکت میں امریکہ نے ہمیشہ، اور خاص طور پر اشد ضرورت کے مواقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ آزاد کشمیر میں زلزلہ کے بعد بھی امریکی حکومت اور نجی شعبہ نے قابلِ لحاظ ہنگامی امداد اور تعمیر نو کے مرحلہ میں معاونت فراہم کی تھی جبکہ امریکی فوج نے امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنائی تھی۔ اپنی ملاقاتوں کیدوران سفیر بلَوم نے اس امر کو اجاگر کیا کہ امریکہ اشد ضرورت کے مراحل میں پاکستان کی امداد کی مضبوط روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور حالیہ تباہ کْن سیلابوں سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے ابھی تک چھ کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر نقد اعانت، خوراک، سر چھپانے اور صحت کی خدمات کے لیے فراہم کیے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے امداد میں پاکستان کے لوگوں کے لیے زندگی بچانے کے لیے درکار ہنگامی ضروریات کی ترسیل کے لیے امریکی فوج کا فضائی پْل بھی شامل تھا۔سفیر بلَوم نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں لنکن کارنر کا دورہ کیا، جس کا حال ہی میں پندرہواں یومِ تاسیس منایا گیا۔ یہ مرکز طالبعلموں اور دیگر آنے والے لوگوں کے لیے معلوماتی مذاکرے منعقد کرتا ہے جبکہ اْن کو سائنس ٹیکنا لوجی انجنیئر نگ اور ریاضی سے متعلق سرگرمیوں میں شرکت، انگریزی زبان کی مہارتوں میں بہتری اور امریکہ کے بارے میں معلومات بھی مہیا کی جاتی ہے۔
Load/Hide Comments



