اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس بہت سیریس معاملہ ہے، اس طرح کا سیکیورٹی لیپس بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، ایسے ماحول میں وزیراعظم ہاؤس میں آنے والے باتیں کرتے ہوئے سو بار سوچیں گے، مریم نوازنے راحیل داماد کے بارے میں کوئی سفارش نا کوئی فیورمانگی، معاملے کا نوٹس لیکر ہائی پاور کمیٹی بنا کر تہہ تک پہنچیں گے،کیا میری فون پر کسی سے ہیرے دینے کی بات سنی، عمران نیازی نے ریاستی مشینری کا ناجائزاستعمال کیا، ایوان صدر میٹنگ بارے علم نہیں، مجھے نہیں پتا، ایوان صدرمیں کونسی میٹنگ ہوئی۔ اپنے دورہ امریکا اور اقوام متحدہ اسمبلی میں خطاب سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سمرقند میں حوصلہ افزا میٹنگ ہوئیں، چین، روس کے صدور سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، سیلاب نے بہت تباہی مچائی،سمرقند میں عالمی لیڈروں کوسیلاب کی تباہی بارے آگاہ کیا، عالمی برادری نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، نیویارک میں بھی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے 1600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، قدرتی آفت سے 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصانات ہوئے ہیں، جس کا میں نے ہر اجلاس میں چاہے وہ ایران کے صدر یا فرانس کے صدر، بیلجیم اور جاپان کے وزرائے اعظم ہوں اور امریکی صدر جوبائیڈن سیبھی ملاقات کی اور پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ جنرل اسمبلی میں کشمیر، اسلاموفوبیا، فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کیا،مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے،کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جنرل اسمبلی میں پاکستان کا بھرپورموقف پیش کیا، بلاول بھٹوکی بھرپورمعاونت شامل تھی۔ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے،پاکستان میں سیلاب ہمارے ناکردہ گناہوں کی سزا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت میں خارجہ پالیسی کا بیڑہ غرق کیا گیا،آج پاکستان عالمی تنہائی سے باہر نکل آیا ہے،گواہ ہوں دوست ممالک نے جوالفاظ کیے اسے دہرا نہیں سکتا، دوست ممالک نے وہ الفاظ بتائے توآپ لوگوں کو پسینہ آجائے گا،عمران خان اپنے آپ کوآئن اسٹائن اور عقل کل سمجھتے تھے، اب موجودہ حکومت نے باہمی اتحاد سے ملک کوعالمی تنہائی سے نکال دیا ہے، پلے کچھ نہ ہونا، مظاہرہ ایسے کرنا جیسے عالمی پہلوان ہو،ملکی معیشت کا آپ نے جنازہ نکال دیا، دوست ممالک کے سربراہان کوآپ ایسے ملتے ہیں جیسے وہ آپ سے امداد مانگنے آئے ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نیوکلیئرطاقت ہے کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،گزشتہ حکومت نے معیشت کا حلیہ بگاڑدیا، تنکا تنکا جوڑ رہے ہیں، ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بھاشن دینے سے نہیں، باہمی احترام سے دوسروں سے بات کرنی چاہیے، ایک ہاتھ میں کشکول اوردوسرے ہاتھ سے آپ دوسروں کودھتکاررہے ہو،برطانیہ کی دعوت پر ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات پر گیا تھا، پرنس چارلس نے پاکستان کے حوالے سے بڑے اچھے الفاظ ادا کیے، پرنس چارلس نے سیلاب کے حوالے سے بھی ہمدردی کا اظہارکیا، برطانیہ نے15ملین پاؤنڈ امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک ہے، اس کی بھرپور مذمت کی اور بتایا وہاں مسلمانوں کی زندگی تنگ ہے، کشمیر کے اندر ظلم وستم جاری ہے، 5 اگست 2019 کو خصوصی آرٹیکل ختم کردیا ہے اور اسی طرح ہم نے پاکستان کا مؤقف بھرپور پیش کیا، جس میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو میرے ساتھ تھے، ان کے علاوہ شیری رحمٰن اور مریم اورنگزیب کی کاوشیں تھیں۔
Load/Hide Comments



