آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار احتساب عدالت کے سامنے سرنڈر

اسلام آباد (آن لائن) اسحاق ڈار نے آمدن سے زائد اثاث جات ریفرنس میں خود کو پانچ سال بعد احتساب عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے،اسحٰق ڈار وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے ہمراہ سخت سکیورٹی میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر جج نے اسحٰق ڈار سے استفسار کیا کہ آپ اتنا عرصہ کہاں تھے؟جس پر اسحٰق ڈار نے عدالت کو بتایا کہ میں طبیعت خرابی کے باوجود پاکستان آنا چاہتا تھا مگر عمران خان کی حکومت نے میرا پاسپورٹ کینسل کرایا تھا۔ دنیا بھر میں سفارت خانوں کو ہدایت تھی کہ پاسپورٹ نہ دیا جائے، اب پاسپورٹ ملا ہے تو حاضر ہو گیا ہوں۔عدالت نے حاضری کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی،عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے نیب سے 7 اکتوبر تک جواب طلب کر لیا۔بعد ازاں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ میں پرسوں رات پاکستان واپس پہنچا اور میں نے کوشش کی کہ کل صبح عدالت میں پیش ہوجاؤں لیکن کل جج صاحب چھٹی پر تھے، آج پھر ہم پیش ہوئے ہیں اور اپنی درخواست جمع کروا دی ہے،ان کا کہا تھا کہ مجھ پر جعلی کیس بنایا گیا کہ میں نے پاکستان میں 1981 سے 2021 تک 20 برس تک ٹیکس ریٹرن نہیں جمع کروایا جبکہ میں نے گزشتہ 40 برس سے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے میں 20 منٹ سے زیادہ تاخیر نہیں کی۔عمران خان کے دور حکومت میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب ان کے وزرا اور مشیر ٹی وی پر بلند بانگ دعوے کرتے تھے کہ اسحٰق ڈار کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی کیس جب وہاں گیا تو میں نے تمام ٹیکس ریٹرنز جمع کروادیے اور انہوں نے عمران خان کی حکومت کے منہ پر طمانچہ مارا، انہوں نے مجھے لکھا کہ آپ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور تمام انٹرپول ارکان کو ہدایت دی کہ عمران خان کے حکم پر امیگریشن سسٹم میں میرے خلاف جو کچھ ڈالا گیا اسے حذف کریں۔