وزیراعظم ہاؤس سے مبینہ آڈیو لیکس ہونے پر پی ٹی آئی نے سکیورٹی پر سوالات اٹھا دیئے

اسلام آباد (آن لائن)وزیراعظم ہاؤس سے مبینہ آڈیو لیکس ہونے پر پی ٹی آئی نے سکیورٹی پر سوالات اٹھا دیئے، تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے کہا کہ 100 گھنٹے سے زیادہ کی وزیر اعظم کے دفتر کی گفتگو ویب سائٹ پر اگست ستمبر سے برائے فروخت ہے، ہماری ایجنسیوں کو سیاسی ٹاسک سے فرصت ملتی تو وہ حساس معاملات پر نظر ڈالتے، سوال یہ ہے اتنے بڑے واقعہ پر حکومت کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ فون پر گیمز کھیلنے سے فرصت مل جائے تو مؤقف بھی دے دیں،فواد چوہدری نے جاری اپنے بیان میں مزید کہا کہ وزیراعظم آفس کا ڈیٹا جس طرح ڈارک ویب پرفروخت کے لیے پیش ہوا یہ سائبر سکیورٹی کیحالات بتاتا ہے، یہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں خصوصاً آئی بی کی بہت بڑی ناکامی ہے، ظاہر ہے سیاسی کے علاوہ سکیورٹی معاملات اور خارجہ امور پر بھی گفتگو اب سب کے ہاتھ میں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی لیکڈ کال کئی حوالوں سے انتہائی تشویشناک ہے، ہمیشہ کی طرح خاندانی کاروبار کے تحفظ کیلئے قوانین کو بالائے پشت رکھنا شریف فیملی کا پرانا وطیرہ ہے، پاکستانی وزیر اعظم کی مبینہ گفتگو 3 لاکھ 45 ہزار ڈالر میں ویب سائٹ پر موجود ہے، ہیکر کے پاس مبینہ گفتگو وزیراعظم آفس کے سیکیورٹی لیول کو ظاہر کرتی ہے۔ بتاتے چلیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی، جس میں پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں سے متعلق اہم گفتگو سامنے آگئی، آڈیو میں مبینہ طور پر وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سمیت دیگر رہنماؤں کی آوازیں ہیں، لیک آڈیو میں پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی منظوری کے لیے لندن سے اجازت لینے پر بھی گفتگو کی گئی۔