تحریک انصاف کی حکومت رہتی تو ستمبر تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرا دیتے:شوکت ترین

کراچی(آن لائن)سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت رہتی تو ستمبر تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرا دیتے،آڈیو ٹیپ کے ذریعے سے پی ٹی آئی کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی،پرائیوٹ گفتگو ٹیپ کرنے کا عمل غیر قانونی ہے، آپ نے آڈیو لیک کرنی تھی تو پہلے کر لیتے اسی دن کیوں کی؟، ہم پرغداری کے الزامات لگائے جارہے ہیں، میں غدار نہیں،سیاسی جماعتیں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند کریں،اس سے جمہوریت کو نقصان ہو گا۔ہفتے کو کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں آئی ایم ایف نے ہمارے لیے بہت اچھی رپورٹ لکھی تھی، اچانک اس کی رپورٹیں تبدیل ہوگئیں، اس کی بھی جاری کردہ رپورٹ صرف ایک چورن ہے، 4 ماہ میں 9.4 بلین مزید قرضہ بڑھ چکا ہے، ڈالر ایک دو دن کی تنزلی کے بعد پھر سے تناور ہو رہا ہے، 2 ماہ میں سیلز ٹیکس منفی میں چلا گیا ہے، بجلی اور گیس کی قیمت میں مزید اضافہ نہیں ہونا چاہیے، ہمیں روس سے سستا تیل درآمد کرنا ہوگا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم پر الزامات لگائے جارہے ہیں، ہمارا مقصد تھا کہ اپنے پیسے اپنے لوگوں پر خرچ کریں، کہا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی،خیبر پختونخوا وزیر خزانہ نے مفتاح اسماعیل کو خط لکھا تھا، جس میں کہا کہ دو ماہ سے فاٹا کے 100 ارب روپے کے لئے خط لکھ رہا ہوں، سیلاب سے متعلق صورتحال بھی خط میں شامل تھی، پیر کی صبح یہ ٹیپ لیک ہوگئی۔ شوکت ترین نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شوکت ترین غدار نہیں، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند کر دیں، موجودہ حکومتی نمائندے جب اپوزیشن میں تھے تب وہ اپنے دور میں آئی ایم ایف کے معاملے پر کیا کہتے تھے؟ ہم نے آئی ایم ایف کے معاملے پر کبھی اپوزیشن کو غدار نہیں کہا۔شوکت ترین کا کہنا ہے کہ 50 لاکھ تنخواہ کی نوکری چھوڑ کر پاکستان آیا تھا، مجھے غدار کہا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو کون متاثر کر رہا تھا ہم یا آپ؟ اس دن آپ نے ٹیپ لیک کیوں کی، جس دن آئی ایم ایف سے منظوری ملنی تھی، ہمارا مقصد ہے کہ اپنے پیسے خود اپنے ملک پر خرچ کریں،تحریک انصاف آئی ایم ایف کے سامنے ڈٹ جاتی تھی اور اپنے لوگوں کا تحفظ کرتی تھی، لیکن موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو مانا۔انہوں نے کہا کہ بغیر سوچے سمجھے ہم پر تنقید کی گئی، گیس چارجز بڑھنے جا رہے ہیں، حکومت نے بجٹ پیش کرتے وقت کہا تھا مہنگائی ساڑھے گیارہ فیصد ہوگی، عام آدمی پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھے گا، حکومت ٹیکس ریونیو بڑھائے، حکومت ٹیکسز میں اضافہ کرے گی، حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط مان لی ہیں، ہم ستمبر میں آئی ایم ایف کی چھٹی کرا دیتے، آئی ایم ایف تو چاہے گا کہ ہم ان کے شکنجے میں رہیں، ہم اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو کہنا چاہیے ہمارے لوگ سیلاب سے متاثر ہیں، ہمیں ریلیف دیں، روس سے سستا تیل لینا چاہیے، سیلاب سے بہت تباہی ہوئی ہے، بطور قوم ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، عمران خان نے ٹیلی تھون میں ساڑھے 5 ارب روپے جمع کیے ہیں جو سیلاب متاثرین پر خرچ کیے جائیں گے۔شوکت ترین نے کہا کہ بجلی 50 روپے فی یونٹ پر پہنچ گئی اور گیس 53 فیصد مہنگی ہوگی۔ حکومت نے کہا تھا مہنگائی کی شرح ساڑھے 11 فیصد ہوگی اور اب کچھ سے کچھ بتاتے ہیں۔ 2 ماہ میں سیلز ٹیکس کی منفی گروتھ ہے.