کراچی(آن لائن) وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہم نے سیاست نہیں بلکہ ملک کو بچایا، پاکستان کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گے دنیا ایک مشکل صورت حال کا سامنا کر رہی ہے، دنیا سے ادھار مانگتے شرم آتی ہے،اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں، ستمبر تک مشکلات رہیں گی، ملکی معیشت کی بہتری کیلئے پر تعیش اشیا کی درآمد پر پابندی لگائی ہے،معیشت کے مسائل امپورٹ کم کرنے سے حل ہوگئے ہیں اور اب 3 ماہ تک امپورٹ نہیں بڑھنے دیں گے اور اس دوران کوئی حکمت عملی نکالیں گے،ایل سیز کی کوئی ادائیگی نہیں روکی،نہ کبھی روکیں گے اور صرف3 دن میں امپورٹرز کیلئے ایل سی کھل جاتی ہے،متحدہ عرب امارات اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، پاکستان کاقرض 25 ہزار ارب پر تھا، عمران خان نے 42 ہزار ارب کر دیا۔کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر وصنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے یقین دہانی کروائی کہ 3 ماہ بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی آجائے گی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے 3 مہینے تک بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائیں تھیں کیونکہ بہت عرصے سے بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھی تھیں اس لیے قیمتوں میں حالیہ اضافہ لوگوں کے لیے دھچکے کا باعث ہے، تاہم ہمیں یقین ہے کہ 3 ماہ بعد بجلی سستی ہوجائے گی، یہ ہمیں پہلے سے ہی معلوم ہے کہ 3 ماہ بعد کمرشل بنیادوں پر اس کی قیمتوں میں کمی آجائے گا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ہماری معیشت کا دارومدار درآمدات پر مبنی ہے جبکہ یہ ماڈل ہمارے لیے موزوں نہیں رہا ہے، دنیا کے جن ممالک نے ترقی کی ہے وہ برآمدات پر مبنی معیشت کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ہمارے پاس دنیا کو کچھ دینے کو نہیں تو کچھ لینا بھی نہیں بنتا، اب چادر دیکھ کرہی پا?ں پھیلانا ہوں گے اس لیے ملک میں لگڑری گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کو ستمبر تک نہیں ہٹائیں گے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں کمی میں، میں نے یا اسٹیٹ بینک نے کوئی مداخلت نہیں کی، ڈالر میری مداخلت کے بعد کم نہیں ہوا بلکہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے وجہ سے کم ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایل سیز کی کوئی ادائیگی نہیں روکی، نہ کبھی روکیں گے اور صرف 3 دن میں امپورٹرز کیلئے ایل سی کھل جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے بجلی کی پیداوار دگنی کی تب بھی پاکستان میں انڈسٹریل پیداوار اور برآمدات دگنی نہیں ہوئیں، 2011 میں پاکستان میں پونے 25 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں اور آج 2022 میں ہم 31 ارب ڈالر تک پہنچ سکے ہیں۔مفتاح اسمعیل نے کہا کہ اب دنیا سے قرض لینے میں مشکل بھی ہوتی ہے اور شرم بھی آتی ہے، اللہ کی مہربانی سے ہم نے آئی ایم ایف کا فنڈنگ پروگرام کرلیا اور فنڈنگ گیپ کی جانب بھی کافی پیش رفت کرلی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کل متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے جس سے ہمیں بہت فائدہ ملے گا، وہ ہمارا دوست ملک ہے اس لیے ہماری مدد کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا 1996 میں ہمیں دیا گیا 45 کروڑ ڈالر کا قرضہ ہم آج تک واپس نہیں کر سکے جبکہ اتنے پیسوں کی ہم سبسڈیاں دیتے رہے ہیں، کبھی کبھی اس سے زیادہ مالیت کی گاڑیاں ہم درآمد کر لیتے ہیں، پھر اس کے بعد کسی سے ادھار لینے جاتے وقت شرم آتی ہے۔مفتاح اسمعیل نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے 80 ارب ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ 31 ارب ڈالر کی برآمدات کی ہیں، کاش یہ تناسب اگر الٹ ہوجاتا تو آج مجھے کسی ملک میں جانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
Load/Hide Comments



