اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب ترامیم، نیب قانون میں کی گئی ترامیم اچھی بھی ہیں، انتخابات بھی احتساب کی ایک شکل ہے،الیکشن میں ووٹر اپنے نمائندوں کا احتساب کرتے ہیں،کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کیلئے ضروری ہے،چھوٹی چھوٹی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگ ایک دو پلاٹوں کے کیس میں گرفتار ہوئے،پہلے ہر مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتا تھا،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشتگردی عدالت سے بوجھ کم کیا،۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے کہ گزشتہ روز نیب قانون میں مزید ترامیم کی گئی ہیں،نیب کیسے کا اہم فریق ہے اسکی نمائندگی بھی ہونی چاہیے،نئی ترامیم کا مسودہ کل عدالت میں جمع کروا دیا ہے،نئی ترامیم قانون بن جائیں تو ہی چیلنج کرینگے،کیس کی بنیاد وہی رہے گی اپنے دلائل کا آغاز کر دوں گا،موجودہ ترامیم آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے،عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی ڈھانچہ سے متصادم ہونے پر کالعدم کر سکتی ہے،گڈ گورننس کیلئے احتساب ضروری ہے،احتساب کے بغیر گڈ گورننس کا تصور نہیں ہو سکتا،نیب ترامیم سے زیر التواء مقدمات غیر موثر ہوگئے،عدالت کے فیصلہ موجود ہے پارلیمنٹ کا قانون بنانے کا کہا گیا،سپریم کورٹ نے گڈ گورننس کو بھی بنیادی حق قرار دیا ہے،عدالت نے بہت سے مقدمات میں پارلیمان کو قانون بنانے کی ہدایات کی ہیں،قتل کے جرم کو ختم کردیا جائے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تصور ہوگی،عدالت نے اسفند یار کیس میں کرپشن کو معاشرے کا ناسور قرار دیا ہے،نیب ترامیم سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز ختم ہوچکے،گڈ گورننس اور احتساب بھی عوام کے بنیادی حق ہیں، ترامیم کے بعد تمام مقدمات عدالتوں سے خارج ہو جائیں گے،آمدن سے زائد اثاثوں کا سب سے پہلا سوال حضرت عمر سے ہوا تھا،ترمیم کے بعد کرپشن ثابت ہونے تک آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بن سکتا،بنیادی ڈھانچے کا تصور موجود ہے آپ چاہیں تو ماضی کا عدالتی فیصلہ واپس لے لیں،منتخب نمائندے سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں کے تحت استعفے دیتے ہیں۔نیب کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اس کیس میں اٹارنی جنرل کے دلائل کو فالو کریگا،اس موقع پروفاقی حکومت کی طرف سے سینئر وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر موقف اپنایا کہ نئی ترامیم ابھی تک قانون کا حصہ نہیں بنیں،نئی ترامیم جب تک قانون نہ بن جائیں اس پر کوئی موقف نہیں دے سکتا، تا ہم عدالت حکم دے تو اپنا جواب ضرور جمع کرائیں گے۔جسٹس اعجاز الحسن نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ کیا احتساب پارلیمانی جمہوریت کا حصہ ہے، کونسل کا موقف ہے نیب ترامیم سے احتساب کے اختیارات کو کم کردیا گیا،سال 2022 میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا،ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہونگی اور جرمانے بھی واپس ہونگے،اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑیں گی،کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کیلئے قانون سازی کر سکتی ہے؟ان نیب ترامیم میں بیرون ملک سے قانونی معاونت حقوق کے معاہدے کے تحت ملنے والے شواہد ناقابل قبول ہیں،اگر اس کیس میں بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو سنیں گے ورنہ عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا،آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے اگلی آئے گی وہ اپنی کرا لے گی،اگر عوام کے پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے،آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت قوانین کا جائزہ لے سکتے۔
Load/Hide Comments



