ملک میں غربت اور بھوک کی وجہ عدل و انصاف کی عدم دستیابی ہے،سراج الحق

اسلام آباد (آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سات دہائیوں سے ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہو سکا یہی وجہ ہے کہ آدھا پاکستان ہم سے چلا گیا اور آج بھی ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں۔ ملک میں غربت اور بھوک کی وجہ عدل و انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ دوسروں کو قرض دینے کی بجائے ہم دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ ملک تماشا بنا ہوا ہے، پی ڈی ایم اورپی ٹی آئی والے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں، حکمرانوں کی لڑائی عوام کے لیے نہیں ذاتی مفادات کے لیے ہے۔ پی ٹی آئی اور گیارہ جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم ملک میں اسلامی نظام کی بات نہیں کرتا جو ہمارے مسائل کا حل ہے۔ 9 سالوں سے کے پی میں تحریک انصاف، 14برسوں سے سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت میں ہے، پنجاب میں بار بار مسلم لیگ(ن) کو اقتدار ملا، یہ تینوں جماعتیں مرکز سمیت بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اقتدار کے مزے لیتی رہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان حکمران جماعتوں نے غریبوں کے حقوق کے لیے کوئی قدم اٹھایا؟ ملک کی بہتری کے لیے کوئی قانون سازی کی؟ کیا ان وڈیروں، جاگیرداروں نے عدالتی، تعلیمی اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی ایکشن لیا؟ عدالتوں سے فیصلے ان حکمرانوں کے حق میں آ جائیں تو خوشیاں مناتے ہیں، خلاف آئیں تو اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں حکمران جماعتوں نے تمام حدیں عبور کر دیں، کبھی سپریم کورٹ تو کبھی الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اگر فیصلے کرنے اور قبول کرنے کا یہی طریقہ عام ہوا تو پھر قانون صرف غریبوں کی گردن دبوچنے کے لیے رہ جائے گا۔ ملک میں طاقتور کو کوئی نہیں پوچھتا، جس کے ساتھ ہزار دو ہزار کا جتھا ہے وہ بھلے من مانیاں کرے اور قانون روندتا پھرے۔