سیاستدانوں کو تمام معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں،اسد عمر

اسلام آباد(آن لائن) تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ چار سال سے کہہ رہے ہیں کہ سیاستدانوں کو تمام معاملات مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے،ملک مختلف گروہوں میں بٹا ہوا ہو وہاں اعتماد کا لیول کم ہو تو معاشرہ ترقی نہیں کرتا،جب خود بات نہ کرے اور کسی اور راستے کو تلاش کریں گے تو طاقتور وہی تیسری طاقت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ بار کا “برداشت معاشرے کی بقاء اور عدم برداشت معاشرے کی تباہی ہے“ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں پیپلز پارٹی رہنما فرحت اللہ بابر، سینئر صحافی حامد میر نے بھی خطاب کیا۔ اسد عمر نے کہا کہ عدم برداشت کیا چیز ہوتی ہے، برداشت کیا چیز ہوتی ہے، ہمیں کیسے نکلنا ہوگا،سیاسی رہنما اگر زبان شائستگی کا استعمال کرے تو سب بہتر ہوگا، میں نے معذرت کے ساتھ کہا ہے زبان بھٹو سے لیکر اب تک سب نے استعمال کی،میں گزشتہ چار سالوں سے کہتا آرہا ہوں کہ سیاست دانوں کو آپس کے معاملات خود دیکھنے چاہیے مگر اگر سیاست دان آپس میں بیٹھنے کو تیار ہی نہیں تو کسی اور سے رابطہ کرنا پڑتا ہے،جب خود بات نہ کرے اور کسی اور راستے کو تلاش کریں گے تو طاقتور وہی تیسری طاقت ہوگی ایسا کوئی مسلہ نہیں کہ آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کی جاسکتی پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں صرف ایک معاملے پر بات نہیں ہوسکتی صرف احتساب کے اوپر ہم بیٹھ نہیں سکتے کہ کیا کرنا ہے،پاکستان میں اگر جمہوریت کو آگے لیکر جانا ہو تو غیر سیاسی مداخلت کا راستہ روکنا ہوگاآپ پاکستان کے کسی کونے میں چلایا جائے اور پوچھے کہ پاکستان کے طرز سیاست پر کسی کو اعتبار ہے انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست کی بنیاد ہی برداشت پر مبنی ہے تمام معاملات کو ٹی وی ٹاک شو اور سڑکوں پر حل کی کوشش کرتے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہر قانون حامد خان نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو اپنے اختلافات ایک سائیڈ پر رکھنا چاہیے جسٹس سجاد علی شاہ کچھ دنوں میں ریٹائر ہورہے ہیں اور آپ نے پانچ دنوں کے لیے جوڈیشل کمیشن کا ممبر بنا دیا۔