اسلام آباد (آن لائن) سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرنل (ر)لئیق بیگ مرزا اور ان کے کزنز عمر جاوید کو دہشت گردوں کی جانب سے شہید کئے جانے کے بعد ایک مذموم اور گمراہ کن پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ بازیابی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد دہشت گرد نہیں تھے بلکہ معصوم شہری تھے،یہ پراپیگنڈا قطعی طور پر بے بنیاد ہے،سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ 12 جولائی کو لیفٹیننٹ کرنل(ر)لئیق بیگ مرزا اور ان کے کزنز عمر جاوید کو دہشت گردوں نے زیارت سے کوئٹہ جاتے ہوئے بیوی بچوں کے سامنے اغواء کیا،13 جولائی کو دہشت گردوں نے کرنل لئیق کو بے دردی سے شہید کیا جبکہ 17 جولائی کو ان کے کزنز عمر جاوید کی لاش پہاڑوں سے برآمد ہوئی،اغواء کاروں کے خلاف کئے گئے آپریشنز میں 9 دہشت گرد مارے گئے جبکہ حوالدار محمد خان نے آپریشن میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا،سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن کے بعد ایک مذموم اور گمراہ پراپیگنڈا کے تحت دہشت گردوں کو معصوم شہری ظاہر کرنے اور بلوچ روایات کے خلاف دہشت گردی کے اس واقعہ سے توجہ ہٹانے کے لئے ان کو پہلے سے لاپتہ افراد کی فرضی لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی،مارے گئے دہشت گردوں میں ایک سلیم بلوچ نامی دہشت گرد بھی شامل تھا جِس کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ کیا گیا کہ وہ پہلے سے لاپتہ اور سکیورٹی فورس کے حراست میں تھا، سلیم بلوچ ایک عرصے سے دہشت گرد کاروائیوں میں بھر پور حصہ لے رہا تھا جسکا ثبوت دہشت گردوں کی اپنی ہی بنائی ہوئی پچھلے سال اکتوبر کی وڈیو ہے جس میں اسے سکیورٹی فورسز پر حملہ کرتے ہوئے باقی دہشت گردوں کیساتھ دیکھا جا سکتا ہے،اس وڈیو میں سلیم بلوچ سکیورٹی فورسز سے چھینی گئی سرکاری جی تھری رائفل کے ساتھ فائر کرتا نظر آرہا ہے،ایک اور تصویر میں جی تھری رائفل کے ساتھ پوز بناتے ہوئے بھی نظر آررہا ہے،اسی آپریشن میں مارے گئے ایک اور دہشت گرد شہذاد بلوچ کی قبر پر بی ایل اے نے اپنا جھنڈا سجا رکھا ہے،اس طرح کے دہشت گردوں کو جبری گمشدہ افراد کے کھاتے میں ڈال کر انکو مظلوم اور ریاست کو ظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس منفی اور منظم پرپیگنڈا کیوجہ سے نہ صرف عوام کوگمراہ کیا جارہا ہے بلکہ ریاستی اداروں کو مسلسل باعث تنقید بنایا جاتا ہے جبکہ زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔
Load/Hide Comments



