جنگل کا قانون نہیں چلے گا، کسی کو بھی کرسی اور عہدے کا ناجائز استعمال نہیں کرنے دیں گے،چیرمین پی اے سی

اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی)نے خاتو ہراسگی اور اثاثوں کی تفصیلات کے معاملے پر سابق چیرمین نیب سمیت دیگر حکام کو 11اگست کو دوبارہ طلب کر لیا ہے،چیرمین کمیٹی نورعالم خان کا کہنا ہے کہ جنگل کا قانون نہیں چلے گا۔ کسی کو بھی کرسی اور عہدے کا ناجائز استعمال نہیں کرنے دیں گے۔بدھ کے روز کمیٹی کااجلاس چیرمین نورعالم خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہا?س میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ قائمقام چیرمین نیب سمیت ڈی جی نیب شہزاد سلیم اوردیگر حکام نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر چیرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ نیب کا ادارہ ایک آرڈیننس کے تحت قائم ہوا ہے جس کا مقصد ملک سے کرپشن کو ختم کرنا ہے اور اس ادارے کو کمیٹی کی جانب سے کیسز بھی بھجوائے جاتے ہیں ہمیں ادارے کے آفیسرز کا بھی احترام ہے انہوں نے کہاکہ ملک کے تمام ادارے آئین کے مطابق کام کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے اس ملک میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے پارلیمنٹیرینز عدالتوں اور نیب سمیت ہر فورم کے سامنے پیش ہوتے ہیں مگر جب کسی دوسرے ادارے کو بلایا جاتا ہے اور ان سے اثاثوں کی تفصیلات معلوم کی جاتی ہیں تو وہ عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اس موقع پر کمیٹی کے رکن شیخ روحیل اصغر نے کہاکہ سیاستدانوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے ہم کمزور سے کمزور ہوتے جارہیے ہیں اس موقع پر چیرمین کمیٹی نے ڈی جی نیب لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر نیب ہمارا احتساب کرسکتی ہے تو ہم بھی نیب کا احتساب کریں گے اور کسی کو بھی اپنے عہدے اور کرسی کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ ہے جو طاقت بھی دیتا ہے اور طاقت کے غلط استعمال پر کاروائی بھی کرسکتا ہے اس موقع پر ڈی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کمیٹی کو بتایا کہ جس طرح عورتوں کو حراساں کیا جاتا ہے اسی طرح مردوں کو بھی طیبہ جیسی خواتین ہراساں کرتی ہیں جن پر جسم فروشی کی مبینہ ظور پر 40سے زائد ایف آئی آرز درج ہیں۔