کمیٹی کے احکامات تسلیم نہ کرنے پر بذریعہ پولیس لایا جائے گا،چیرمین کمیٹی نور عالم خان

اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاونٹس کمیٹی نے اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے اور پی اے سی کے اختیارات عدالت میں چیلنج کرنے پر قائمقام چیرمین نیب اور ڈی جی نیب لاہور کو آج (بدھ کو) طلب کر لیا ہے۔ چیرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہاہے کہ اگر نیب حکام کمیٹی کے احکامات تسلیم نہیں کریں گے تو انہیں پولیس کے زریعے اجلاس میں لایا جائے گا۔منگل کے روز پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر چیرمین کمیٹی نورعالم خان نے کہاکہ قائمقام چیرمین نیب نے پی اے سی کے اختیارات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پی اے سی کے 24جون کی سفارشات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ نیب چیرمین کے یہ اقدامات توہین پارلیمنٹ کے مترادف ہے کمیٹی کی جانب سے قائمقام چیرمین نیب اور ڈی جی نیب لاہور کو سمن جاری کرتے ہیں کہ وہ آج بروز بدھ اجلاس میں حاضر ہوں اور اگر وہ اجلاس میں نہیں آتے ہیں تو ان کو طریقہ کار کے مطابق پولیس کے ذریعے لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کسی کے ساتھ بھی ذاتیات نہیں ہے اگر کوئی بھی شخص ملکی خزانے کو نقصان پہچائے گا یہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرے گا تو ہم سے باز پرس کریں گے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ پی اے سی جو کام بھی کرتی ہے وہ آئین کے مطابق کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے آئین 66 اور 69 میں واضح لکھا ہے آئین یہ کہتا ہے کہ کسی بھی محکمہ سے کاغذات مانگ سکتے ہے انہوں نے کہاکہ تمام محکمہ سروس رولز کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن یا وزارت قانون کے پاس اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرواتے ہے نیب ایک سول ادارہ ہے ملٹری ادارہ نہیں ہے، نیب ہو یا ایف ائی اے تمام ملازمین اپنے اثاثے ڈکلئیر کرواتے ہے انہوں نے کہاکہ نیب نے عدالتوں میں چیلنج کیا ہے میں معزز عدالتوں سے پوچھنا چاہتاہوکہ کیا عدالتیں کرپشن کو روکنا نہیں چاہتی ہیں انہوں نے کہاکہ جو اختیارات کمیٹی کو دئیے گئے اس کو کس طرح یہ لوگ عدالتوں میں چیلنج کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ نیب آفسران اپنے اختیارات کو غلط استعمال کرکے ہماری ماوں بہنوں کے ساتھ غلط کرے کیا ہم ان کو چھوڑ دے اگر قائم مقام چئیرمین نیب اور ڈی جی نیب کل نہیں آتے تو انکو گرفتار کرکے لایا جائے گا انہوں نے کہاکہ جو بھی نیب آفسران پی اے سی کو نہیں مانتے تو وہ استعفی دیکر گھر بیٹھ جائے-