کابل (آن لائن) پاکستاں جیسا بڑا گاہک ملنے کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت نے کوئلے کی قیمت دو گنا سے زیادہ بڑھا دی۔ قیمت میں یہ اضافہ پاکستانی تجارتی وفد کے کابل کے دورے سے قبل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی پیداوار کیلئے افغانستان سے کوئلہ درآمد کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھاکہ پڑوسی ملک سے کوئلے کی درآمد افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے 2 ارب ڈالر کے قریب بچیں گے، افغانستان سے کوئلہ ڈالر میں نہیں روپے میں خریدیں گے۔وزیراعظم کے اعلان کے بعد طالبان حکومت نے درآمدی کوئلے کی قیمت 90 ڈالرز فی ٹن سے بڑھا کر 200 ڈالرز فی ٹن کردی تھی۔ اب ایک بار پھر طالبان حکومت نے کوئلے کی قیمت بڑھا دی ہے اور اس بار 80 ڈالرز فی ٹن اضافہ کردیا ہے۔افغانستان کی وزارت معدنیات اور پیٹرولیم کے ترجمان عصمت اللہ برہان کے مطابق کوئلے کی نئی قیمت 280 ڈالرز فی ٹن ہوگی اور اس قیمت کا نفاذ فوری ہوگا۔طالبان ترجمان کا کہنا تھاکہ عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث قیمت بڑھائی گئی جبکہ پاکستان کو روزانہ 10 ہزار ٹن کوئلہ برآمد کیا جاتا ہے جس سے کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے۔دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کا تجارتی وفد 18 سے 20 جولائی تک کابل کا دورہ کرے گا جس میں دوطرفہ تجارت کے علاوہ کوئلے کی درا?مد پر بھی بات کی جائے گی۔
Load/Hide Comments



