دیربالا،لاہور (آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مافیاز اور کرپٹ لوگوں نے ملک کو 75برسوں سے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ بار بار حکومت کرنے والے عوام کو کارکردگی بتائیں، حکمران جواب دیں کہ پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ بچے تعلیم سے محروم کیوں ہیں؟ لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولتیں اور پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں۔ 35برس سے تین پارٹیاں مسلسل اقتدار میں ہیں، عوام کو بتایا جائے کہ گھنٹوں لوڈشیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟ بارش کے چند قطرے برسے تو پورا سندھ، کراچی اور بلوچستان سیلاب میں بہہ گیا۔ انسان مریخ پر پہنچ گیا ہے اور ہمارے ہاں بچے کوڑے کے ڈھیروں پر رزق تلاش کر رہے ہیں۔ شہروں اور دیہاتوں میں سڑکیں تباہ اور گلی محلے گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ آزادی کو سات دہائیاں گزر گئیں، آدھا عرصہ ڈکٹیٹرز کھا گئے اور رہی سہی کسر نام نہاد جمہوری پارٹیوں نے نکال دی۔ حکمرانوں نے ملک کے جغرافیہ اور نظریہ کو نقصان پہنچایا اورکشمیریوں کی قربانیوں کا سودا کیا۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کے حوالے اور پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو باعزت رہائی دی گئی۔ بھارت میں مسلمانو ں اورکشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور ہمارے حکمرانوں نے ابھی نندن کو ہاتھ باندھ کر مودی کے حوالے کر دیا۔ مسائل کا علاج اسلامی نظام میں ہے۔ جماعت اسلامی معاشرہ کی تشکیل اسلامی اصولوں پر کرنا چاہتی ہے تاکہ ہماری سیاست، ادارے اور معیشت ٹھیک ہو جائے اور ہر انسان کو اس کے گھر کی دہلیز پر حقوق ملیں۔ آئیے مل کر پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد میں تیزی لائیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دیربالا میں بلدیاتی کونسلر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ممبر صوبائی اسمبلی عنایت اللہ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی صوبہ خیبر پی کے عبدالواسع، سابق ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ اور امیر ضلع دیربالا حنیف اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سود کے خلاف 19برس تک عدالتوں میں لڑائی لڑی اور جب وفاقی شرعی عدالت نے سود کو حرام قرار دے کر ملکی معیشت کو اس مکروہ نظام سے پاک کرنے کا فیصلہ دیا، تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ حکومت کی جانب سے سٹیٹ بنک کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل میں سپریم کورٹ سے سود جاری رکھنے کے لیے 20سال کا وقت مانگا گیا ہے۔
Load/Hide Comments



