ہمیں تگنی کا ناچ نچا کر اور ہماری ناک سے لکیریں نکلواکر بھی ان کی شرائط پوری نہیں ہوئیں،معاہدے کو فوری منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے،رانا ثناء اللہ

فیصل آباد(آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کی تمام سخت شرائط مان لیں ہیں،آئی ایم ایف فوری معاہدے کو منطقی انجام تک پہنچائے،ہم نے مشکل فیصلوں سے اپنی پارٹی کیلئے مسائل کھڑے کر لئے لیکن سیاست پر ریاست کو ترجیح دی ہے،آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم نہ کرتے تو ملک ڈیفالفٹ کر جاتا،آئی ایم ایف ہمیں تگنی کا ناچ نچا کر اور ہماری ناک سے لکیریں نکلواکر بھی خوش نہیں ہوا،ابھی اس کی شرائط پوری نہیں ہوئیں،زیرو سبسڈی پر ملک چلایا جائے تو غریب تو مر جا ئے گا۔ہم نے پٹرول کی قیمت کو بڑھایا اور کئی مشکل اقدام اٹھائے لیکن آئی ایم ایف پھر بھی نہیں مان رہا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آن لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں ملک پر نااہل ٹولہ مسلط رہا جس نے ملکی معاشی ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے بجائے اپنی تمام توجہ صرف اور صرف مخالفین کو کچلنے اور ان کے خلاف انتقامی کاروائیوں پر مرکوز رکھی، اس طرح عمران خان نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیاتاہم پاکستان اس وقت معاشی حوالے سے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے اسلئے پاکستان کو اگر کمزور کردیا گیا تو اس کے اثرات بہت برے ہوں گے،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسا ملک زیرو سبسڈی کا معاہدہ کس طرح کرسکتا ہے کیونکہ عوامی حالت کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے اسی لئے ہم الیکشن کی جانب نہیں گئے تاکہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچاسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مفتاح اسماعیل، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، مصدق ملک سمیت دس پندرہ انتہائی تجربہ کار معاشی و اقتصادی ماہرین کی ٹیم موجود ہے جو دن رات وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی لانے اور کم آمدنی والے افراد سمیت تمام عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوشاں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں اچھے بیوروکریٹس کی بھی مکمل معاونت ورہنمائی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا ہے اس پر آئی ایم ایف ہمیں تگنی کا ناچ نچا کر اور ہماری ناک سے لکیریں نکلواکر بھی خوش نہیں ہوا اور اس کی شرائط پوری نہیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے زیرو سبسڈی کی شرط مانی لیکن اگر اس پر عمل کرتے ہوئے زیرو سبسڈی پر ملک چلایا جائے تو غریب تو مر جا ئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پٹرول کی قیمت کو بڑھایا اور کئی مشکل اقدام اٹھائے لیکن آئی ایم ایف پھر بھی نہیں مان رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم مشکل فیصلہ کرکے فوری الیکشن کی بجائے حکومت کی طرف نہ جاتے اور ملک کو کیئر ٹیکرز کے حوالے کردیتے تو یہ ہمارے لئے آسان تھا لیکن اس سے ملک دیوالیہ ہوجاتا لیکن ملک کے خیر خواہوں نے کہا کہ ہمیں مشکل فیصلے کرنے چاہئیں لہٰذااس لمحہ ہم نے سیاست کو ایک طرف رکھا اور ریاست کو بچایااور مشکل فیصلوں کی طرف گئے۔