اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین و سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو نقصان سے بچانے کے لیے خاموش بیٹھا ہوں، تمام سازشیوں کا علم، دیوار سے لگایا گیا تو کرداروں کو بے نقاب کردونگا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ پاکستان میں 5جولائی کو مارشل لا لگاکر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کی گئی، امریکا ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے خوش نہیں تھا، امریکا خوش نہیں تھا پاکستان ایک آزاد خارجہ پالیسی بنائے، ذوالفقار علی بھٹو سے کئی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر وہ ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینا چاہتا تھا، جس کا مقصد عوام کی بہتری ہو، پاکستان کا جو جمہوری عمل تھا وہ اب رک گیا ہے، جس سے ملک کا نقصان ہوا ہے، مارشل لا آیا اس کے بعد جمہوری نظام آیا اور اب پھر سے وہ عمل رک گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘پہلے اور اب جو کچھ ہوا ہے، اس میں ایک ہی چیز یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی پر امریکا خوش نہیں ہے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ حکم ملے اور پاکستان ان کی جنگ میں شامل ہو جائے اور پاکستان 80 ہزار جانیں ان کے لیے قربان کر دے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے نواز شریف اور دیگر نے ملک سے چوری کی اور پرویز مشرف سے این آر او لیا اور پھر یہ 10 سال حکومت میں آئے اور پھر سے چوری کی، ان کو ہمارے اوپر مسلط کرنے کا مقصد این آر او ٹو لینا تھا۔ آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کہاگیا، نوازشریف کی کرپشن پر فلمیں بنی ہوئی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ غدار ہیں جن کا نظریہ فقط پیسہ ہے جو بیرون ممالک رکھا ہوا ہے اور یہ لوگ اپنا پیسہ بچانے کے لیے اسرائیل کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں اور ان کو موقع ملے تو کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی نظرانداز کرکے بھارت سے دوستی کرلیں اور پیسے کے خاطر پھر کسی امریکی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں اور روس کا تیل بھی نہیں لیں گے کہ امریکا ناراض نہ ہو جائے اس وقت جس طرح کا خوف پھیلایا جا رہا ہے میں نے پاکستان میں کبھی بھی اس طرح کی فاشزم نہیں دیکھی پرانے دور میں معلومات روکنا یا خبر روکنا آسان تھا مگر اب دور بدل گیا ہے، سوشل میڈیا کا منہ بند نہیں کیا جا سکتا مگر یہ لوگ ملک کو انارکی کی طرف لے جا رہے ہیں۔صحافی ایاز امیر پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ان کو سب جانتے ہیں کہ ان کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا اور اس کو لفافہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کہ وہ ایک نڈر اور پڑھا لکھا انسان ہے اور اس عمر میں ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا یہ پوری قوم کے لیے شرم ناک واقعہ ہے جو ٹی وی چینل چوروں کی حمایت کرتے ہیں ان ک ریٹنگ سب کے سامنے ہے جبکہ جو حق و سچ کی بات کرتے ہیں ان کی ریٹنگ سب سے زیادہ ہے، اسی طرح صحافی عمران ریاض کو لوگ دیکھتے ہیں کیونکہ وہ حق اور سچ کی بات کرتا ہے اور یوٹیوب پر ایسے ہی لوگ ان کو فالو نہیں کرتے۔عمران خان نے کہا کہ صحافی ارشد شریف کے ضمیر کی کوئی قیمت نہیں ہے اس کا تعلق فوجی گھرانے سے ہے مگر اس پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے اور صابر شاکر بھی ملک چھوڑ کر چلا گیا ہے اور صحافی جمیل فاروقی کے بھی پیچھے لگے ہوئے ہیں معید پیرزادہ سمیت متعدد صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے سرگرم رکن ارسلان کے گھر میں چلے گئے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی انتشار کی تاریخ نہیں ہے، ہم ہمیشہ قانون پر رہے ہیں، جب پورے خاندان ہمارے احتجاج میں شرکت کرتے ہیں تو کیا ہم ان کو انتشار کے لیے بلاتے ہیں، ان لوگوں پر 25 مئی کو پاکستان کی پولیس اور رینجرز نے ظلم کیا اور ان پر آنسو گیس پھینکے تو ایسی کیا قیامت آ گئی تھی کہ لوگوں پر انتا ظلم کیا گیا۔ڈرانے دھمکانے کے جو حربے استعمال کیے جا رہے ہیں یہ ان لوگوں کو ہم پر مسلط کرنے کے لیے ہو رہے ہیں، یہ لوگ ہر دور کے یزید بن کر لوگوں پر ظلم کرنے آتے ہیں، میرے اوپر 15 مقدمے درج کیے ہوئے ہیں اور ہماری پوری قیادت پر دہشت گردی کے مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی اس لیے چپ ہوں کہ صرف میرے ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن میں نے ایک وڈیو ریکارڈ کی ہوئی ہے اور وہ محفوظ جگہ پر رکھی ہے، اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو وہ بھی عوام کو پتہ چلے کہ کس نے کیا کیااگر اسی طرح ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو میں مجبور ہو کر بولوں گا اور پھر سب کچھ قوم کے سامنے رکھوں گا کہ کیا کچھ ہوا۔ہماری حکومت میں معیشت بہتری کی طرف جارہی تھی، ہمارے دور میں ٹیکس کلیکشن میں ریکارڈ اضافہ ہورہاتھا،آج اس حکومت نے مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، ان لوگوں نے ہماری حکومت گرانے کے لیے این آر او حاصل کیا، ہمارے دور میں آئی ٹی کے شعبے میں ریکارڈ ترقی ہوئی، ان کا نظریہ پیسہ ہے، سازش کرنے والوں کو عوام قبول نہیں کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی پاکستان میں اس طرح کا فاشزم نہیں دیکھا، لاہور لبرٹی چوک پر لوگوں پر شیلنگ کی گئی، مجھے سب پتہ ہے کس نے کیا کیا ہے، ایک ویڈیو بناکر محفوظ جگہ پر رکھی ہوئی۔ مجھے کچھ ہوا تو قوم کو بتائیں گے کہ ذمہ دار کون ہے؟۔
Load/Hide Comments



