اسلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی نے مالی سال 23-2022 کے فنانس بل کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، وفاقی بجٹ کی شق وار منظوری کے دوران پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار 50 روپے اضافہ بھی منظور کیا گیا،وفاقی وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی حکومت کو اجازت ہے کہ پچاس روپے تک لیوی لگا سکتی ہے جبکہ اس وقت لیوی صفر ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے، پٹرول، ڈیزل اور ہائی آکٹین پر لیوی50 روپے تک لگانے جارہے ہیں،ہم ایسے ٹیکس لائے ہیں جو صاحب ثروت لوگوں پر لگیں ہم ذمہ دار قوم ہیں ہم صرف اپنی کمٹمنٹس کو آؤن کررہے ہیں۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں آئندہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر پچاس روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور،سافٹ ویئر اور آئی ٹی کنسلٹنٹس کی خدمات پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی شق منظور،تاجروں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصول کرنے سے متعلق شق منظور،بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ریلیف ختم، تنخواہ دار طبقے کے لئے نئی ٹیکس شرح ماہانہ 50 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا، ماہانہ 50 ہزار روپے سے 1 لاکھ تک تنخواہ لینے والوں سے2.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد ہو گا، ترمیم منظور ماہانہ 1 سے 2 لاکھ تنخواہ والوں پر 15 ہزار روپے فکس ٹیکس سالانہ جبکہ 1 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر12.5 فیصد کی شرح سے ماہانہ ٹیکس عائد ہو گا، ترمیم منظور،ماہانہ 2 سے 3 لاکھ تنخواہ والوں پر 1 لاکھ 65 ہزار سالانہ جبکہ 2 لاکھ سیاضافی رقم پر 20 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد، ماہانہ 3 سے 5 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں پر 4 لاکھ 5 ہزار روپے سالانہ جبکہ 3 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 25 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد، ماہانہ 5 سے 10 لاکھ روپے تنخواہ والوں پر 10 لاکھ روپے سالانہ اور 5 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر32.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد،ماہانہ 10 لاکھ روپے سے زاید کی ماہانہ تں خواہ لینے والوں 29 لاکھ روپے سالانہ جبکہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس عائد،سپیکر اور چیئرمین سینٹ کو اضافی مراعات دینے کا اختیار متعلقہ قائمہ کمیٹی خزانہ کو دینے کی شق منظور،پندرہ کروڑ سے 30 کروڑ روپے سالانہ آمدن پر ایک سے چار فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی شق منظور،30 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدن والے 13 شعبوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری ایئر لائنز، آٹوموبائل، مشروبات، سیمنٹ، کیمیکل، سگریٹ، فرٹیلائزر، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل، آئل مارکیٹنگ، آئل ریفائننگ، فارماسوٹیکل، شوگر اور ٹیکسٹائل پر دس فیصد سپر ٹیکس عائد ہو گا،بینکنگ سیکٹر پرمالی سال 2023 میں دس فیصد سپر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔بجٹ میں درآمدی موبائل فونز مزید مہنگے کر دیئے گئے موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد بجٹ میں 30 ڈالر کے موبائل فون پر 100 روپے لیوی عائد،بجٹ میں 30 ڈالر سے 100 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 2 سو روپے لیوی عائد،دو سو ڈالر کے درآمدی موبائل فون پر 6 سو روپے لیوی،بجٹ میں 350 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 18 سو روپے لیوی عائد،بجٹ میں 5 سو ڈالر کے موبائل فون پر 4 ہزار لیوی عائد،بجٹ میں 7 سو ڈالر مالیت کے موبائل فون پر 8 ہزار روپے لیوی،بجٹ میں 701 ڈالر مالیت کے موبائل فون پر 16 ہزار لیوی عائد کی گئی ہے۔
Load/Hide Comments



