مقبوضہ کشمیر میں جی ٹونٹی اجلاس کی اطلاعات پر پاکستان کا احتجاج

اسلام آباد (آن لائن) بھارت حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جی ٹی ٹونٹی اجلاس منعقد کی اطلاعات پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر بھارت اور پاکستان کے مابین تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، مقبوضہ کشمیر پر 1947 سے بھارت نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ گذشتہ سات دہائیوں سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار بھارت ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ5 اگست 2019 سے بھارتی قابض افواج نیورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب تبدیل کر رہا ہے، خطے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ “متنازعہ” حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے،مقبوضہ علاقے میں کسی بھی G20 سے متعلقہ ایونٹ کے انعقاد پر غور کرنا ایک خیانت ہے،وادی میں ایسے کسی بھی اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں، ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کسی بھی صورت میں ایسے اقدامات کو قبول نہیں کر سکتی، جی 20 کے اراکین قانون اور انصاف کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہوں گے اور اسے حق سے مسترد کریں۔