بلوچستان اور سندھ میں چھوٹے پیمانے پرزرعی کاروبار کوفروغ دینے کیلئے سمیڈا اور آئی ٹی سی کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخط

اسلام آ باد(آن لائن)صوبہ بلوچستان اور سندھ میں چھوٹے پیمانے پرزرعی کاروبار کوفروغ دینے کیلئے سمیڈا اور آئی ٹی سی کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیلئے اجلاس کا انعقاد۔اس موقع پر چھوٹے اور درمیانے درجوں کے کاروباری ادار ہ(سمیڈا)اور انٹرنیشنل ٹریڈسینٹر(آئی ٹی سی)کے درمیان پاکستان میں چھوٹے پیمانے پر زرعی کاروبار کو مضبوط کرکے غربت میں کمی لانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔منصوبے کے تحت یورپی یونین کی جانب سے فنڈز سے چلنے والے منصوبے ’گروتھ آف رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹین ایبل پروگریس (جی آر اے ایس پی)‘ کی منتخب سرگرمیوں پر سمیڈا اور آئی ٹی سی کے ذریعے بلوچستان اور سندھ میں مشترکہ طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار سید مرتضیٰ محمود نے کہا کہ گراسپ پراجیکٹ کے نفاذ سے لائیو سٹاک، ڈیری اور ہارٹیکلچر کے شعبوں میں استعداد کار اور گنجائش کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے پروگرام کو خیبرپختونخوا، قبائلی علاقہ جات،جنوبی پنجاب ودیگرصوبوں تک پھیلانے پر زور دیا۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ اس منصوبے سے توقع ہے کہ ایکو سسٹم میں متعلقہ مارکیٹ میں کام کرنے والوں کے ذریعے درمیانے، چھوٹے اور مائیکرو رورل انٹرپرائزز کے لیے کریڈٹ تک رسائی آسان ہو جائے گی اورچھوٹے و درمیانے درجہ کے کاروبارکے ارد گرد کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ یہ منصوبہ باغبانی، لائیو سٹاک اور ڈیری میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی مدد کرے گا کیونکہ پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ جی آر اے ایس پی منصوبہ 1.8 ملین ڈالر کی لاگت سے چھ سالوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے علاوہ، معیارات میں بہتری، ویلیو چین، پیداوار، معیار، مارکیٹ کی معلومات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے گرانٹس اور تکنیکی مددبھی فراہم کرے گا۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار امداد اللہ بوسال، سمیڈا اور آئی ٹی سی کے حکام نے بھی شرکت کی۔