سینیٹ اجلاس، اپوزیشن کا نیب قوانین اور انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار، این آر او ٹو قرار دیا

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں اپوزیشن اراکین نے نیب قوانین اور انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کو ایک بار پھر این آر او ٹو قرار دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے نیب قوانین میں تبدیلی کو جائز قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو ملکی معاملات پر سیاست نہ کرنے کی التجا کی۔منگل کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہمیں نیب قوانین اور انتخابی اصلاحات بل پر بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ بل پیش کرنے کے موقع پر بھی ہمیں بات نہیں کرنے دی گئی اگر حکومت ہمیں مار رہی ہے تو ہمیں رونے کا موقع تو دیا جائے انہوں نے کہاکہ آج تک ہم اقوام عالم میں اپنا مقام نہیں بنا سکے ہیں اس ملک میں غریب عوام کیلئے ایک جبکہ اشرافیہ کیلئے دوسرا قانون ہے انہوں نے کہاکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے حکومتیں کیں اور اس دور میں کرپشن کو پروان چڑھایا گیا اور ملک عدم استحکام کا شکار رہا جس کی وجہ سے ملک پر ڈکٹیٹر شپ آگئی اور اس دوران دو بڑی جماعتوں کو این آر او دیا گیا اور ان کے اربوں روپے کرپشن کے کسیز معاف کئے گئے انہوں نیانصاف کی حکومت سے بھی اپنے کرپشن کے کیسز معاف کرانے کیلئے بھی دباؤ ڈالا دیا مگر جب ہم نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے تو ہماری حکومت ختم کردی گئی انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بھی کرپشن کی حمایت کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ملک کے عوام کیلئے نہیں بلکہ اپنے پیسے بچانے کیلئے سازش کی انہوں نے کہاکہ نیب قوانین اور انتخابی اصلاحات میں تبدیلی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اس قوانین میں تبدیلی کرکے ملک میں کرپشن کو جائز کردیا گیا ہے اور حکومت نے اپنے کیسز ختم کئے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت کابینہ میں بیٹھے 60فیصد وزرا پر کرپشن کے کیسز ہیں وہ کیسے ان قوانین کو ختم کرسکتے ہیں جو کرپشن کے خلاف ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کردیا ہے سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہاکہ نیب ترمیمی آڑڈیننس کو ہم این آر او ٹو کہتے ہیں موجودہ کابینہ اور اس کے وزرا کرپشن کے مختلف مقدمات میں ملوث ہیں اس لئے ملزم قاضی نہیں بن سکتا ہے انہوں نے کہاکہ این آر او ون میں ملک کے 23سو ارب روپے کے کیسز ختم کردئیے گئے انہوں نے کہاکہ ایمپورٹڈ حکومت اسی لیے آئی ہے اور اس کی تصدیق موجودہ حکومت کے وزیر خرم دستگیر نے بھی کیا ہے انہوں نے کہاکہ این آر ٹو لینے سے 12سو ارب روپے کے کیسز ختم کر دئیے گئے ہیں اس میں بار ثبوت ملزم پر نہیں بلکہ نیب کے افسران پر کردیا گیا ہے یہ اسلامی تعلیمات کے منافی اقدام ہے انہوں نے کہاکہ حکومت ملک کی تقدیر کے ساتھ ساتھ قوم کے اخلاق کے ساتھ بھی کھیلنا شروع کردیا ہے ہم حکومت کے ان اقدام کی شدید ترین مذمت کرتے ہیں –