چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ لاہور میں کیس مینجمنٹ سسٹم موبائل ایپ اور ریکارڈ روم مینجمنٹ سسٹم کے پائلٹ پراجیکٹ کاافتتاح کر دیا

لاہور (آن لائن)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیربھٹی نے کہا ہے کہ انصاف کی فوری فراہمی کی ذمہ داری ہمارے لئے باعث فخر ہے،عدالتی نظام کو شفاف بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کا اہم تقاضا ہے وہ منگل کے روز سیشن کورٹ لاہور میں ضلعی عدلیہ میں کیس مینجمنٹ سسٹم موبائل ایپ اور ریکارڈ روم مینجمنٹ سسٹم کے پائلٹ پراجیکٹ کے افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔قبل ازیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیربھٹی نے ضلعی عدلیہ میں زیر التواتمام مقدمات کاریکارڈ آن لائن کرنے کے لیے سیشن کورٹ میں لاہور کی ضلعی عدلیہ میں کیس مینجمنٹ سسٹم موبائل ایپ اور ریکارڈ روم مینجمنٹ سسٹم کے پائلٹ پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے ایڈمن جج آئی ٹی جسٹس شجاعت علی خان، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور حبیب اللہ عامر، ڈی جی جوڈیشل اینڈ کیس مینجمنٹ شازب سعید، ایڈیشنل رجسٹرار ساحر اسلام، ایڈیشنل سیشن جج مدثر عمر بودلہ، سول جج دانش مختار سمیت دیگر جوڈیشل افسران، صدر لاہور بار ایسوسی ایشن راو سمیع اور سیکرٹری عمار یاسر کھوکھر سمیت بار کے دیگر عہد ے دار بھی موجود تھے۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے کہا کہ کیس مینجمنٹ سسٹم موبائل ایپ سی ایم ایس ضلعی عدلیہ میں شروع کردیا گیا ہے، جبکہ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کا پائلٹ پراجیکٹ لاہور کی ضلعی عدلیہ میں شروع کیا جارہا ہے، بعد ازاں ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم(آر ایم ایس) کو صوبہ بھر کی ضلعی عدلیہ میں بھی نافذ کردیا جائے گا۔ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کو کیس مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا جسٹس شجاعت علی خان اور ہماری آئی ٹی ٹیم نے بہترین کام کیا ہے، یہ دونوں سسٹم اپنی مدد آپ کے تحت بغیرکوئی پیسہ خرچ کئے بنائے گئے ہیں، جو قابل ستائش ہے۔ چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ ہمارے لئے باعث اطمینان ہے کہ ہماری عدلیہ تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی جانب گامزن ہے۔سی ایم ایس سسٹم کے تحت پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے 13 لاکھ مقدمات کا ریکارڈ آن لائن کردیاگیا ہے آ ن لائن سسٹم کی بدولت نہ صرف زیر سماعت مقدمات بلکہ فیصلہ شدہ امثالات سے متعلقہ معلومات عوام اور وکلاکو آن لائن میسر ہونگی، جس سے انصاف کی ترسیل کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانے میں معاونت ملے گی۔ چیف جسٹس کی جانب سے متذکرہ سسٹم متعارف کروانے پر لاہور ہائی کورٹ کے ایڈمن جج برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مسٹر جسٹس شجاعت علی خان اور انکی ٹیم کو مبارکبادبھی دی گئی۔ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے جسٹس شجاعت علی خان نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ کو بہترین طریقہ کار کے تحت ترتیب دینا بہت ضروری تھا،کیس مینجمنٹ سسٹم اور ریکارڈ روم مینجمنٹ سسٹم کی بدولت عدالتی ریکارڈ کو موثر انداز میں محفوظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کی فائلز کو کیٹگریز کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے، جس سے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم سے ریکارڈ کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ متذکرہ سسٹم کی بدولت کسی بھی متعلقہ فائل تک کم وقت میں رسائی آسان ہوگی۔ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم اور کیس مینجمنٹ سسٹم موبائل ایپ کی بدولت سائلین اور وکلاکو سب سے زیادہ آسانی ہوگی اور مقدمہ سے متعلق معلومات فنگر ٹپس پر دستیاب ہونگی۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔